You will need information to back up your ideas.
الرسالہ، جنوری ۲۰۰۱، صفحہ ۴۳
ایک خط
برادر محترم جناب یوسف نورانی صاحب السلام علیکم ورحمۃ اللہ ۲۴ ستمبر ۲۰۰۰ کو ٹیلیفون پر آپ سے قرآن کی ایک آیت پر گفتگو ہوئی۔ اس آیت کا ترجمہ یہ ہے: وہی ہے جس نے تمہارے اوپر کتاب اتاری، اس میں بعض آیتیں محکم ہیں، وہ کتاب کی اصل ہیں، اور دوسری آیتیں متشابہ ہیں۔ پس جن کے دلوں میں ٹیڑھ (زیغ) ہے وہ متشابہ آیتوں کے پیچھے پڑ جاتے ہیں فتنہ کی تلاش میں اور اس کی تاویل کی تلاش میں۔ حالاں کہ اس کی تاویل اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا، اور جو لوگ علم میں رسوخ رکھنے والے ہیں وہ کہتے ہیں کہ ہم ان پر ایمان لائے۔ سب ہمارے رب کی طرف سے ہے۔ اور نصیحت وہی لوگ قبول کرتے ہیں جو عقل والے ہیں۔ (آل عمران ۷)
اس آیت میں بتایا گیا ہے کہ قرآن سر تا پا ہدایت کی کتاب ہے۔ مگر اس کتاب سے ہدایت اسی شخص کو ملے گی جو عقل صحیح کے ساتھ اس کو پڑھے۔ جو آدمی قرآن کو عقل صحیح کے ساتھ نہ پڑھے اس کو اس کتاب سے ہدایت نہیں مل سکتی۔
قرآن کو عقل صحیح کے ساتھ نہ پڑھنا کیا ہے، اس کو مذکورہ آیت میں زیغ کے لفظ میں بیان کیا گیا ہے۔ زیغ کے معنی عربی زبان میں انحراف (deviation) کے ہیں۔ عربی میں کہا جاتا ہے کہ زاغ عن الطریق، یعنی وہ سیدھے راستہ سے ہٹ گیا۔ گویا قرآن کو عقل صحیح کی روشنی میں پڑھا جائے تو اس سے ہدایت کی روشنی ملے گی۔ اور اگر قرآن کو منحرف ذہن کے تحت پڑھا جائے تو ایسے آدمی کے لئے قرآن ہدایت کا ذریعہ نہیں بنے گا۔ وہ صرف بھٹک کر رہ جائے گا۔ اس زیغ کی بعض عملی مثال لیجئے۔ مثلا قرآن میں ید اللہ (المائدہ ۶۴) کا لفظ آیا ہے۔ یعنی اللہ کا ہاتھ۔ اب اگر کوئی شخص اس آیت کو لے کر اس بحث میں پڑ جائے کہ اللہ کا ہاتھ انسان کی طرح پانچ انگلیوں والا ہاتھ ہے یا اس سے مختلف ہے، تو یہ زیغ (انحراف) ہوگا۔ اس کے برعکس
‹ Previous page Next page › Contents of January 2001 All issues