آں چہ دانا کند کند ناداں لیک بعد از خرابی بسیار
الرسالہ، اگست ۲۰۰۱
الثقلین (میں تمہارے درمیان دو بھاری چیزوں کو چھوڑ رہا ہوں) اس حدیث میں ثقلین سے مراد کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ تھی۔ مگر کچھ لوگوں نے اس کو اپنے ذہن کے مطابق ڈھال کر اس کو کتاب اللہ وعترتی (اللہ کی کتاب اور میرا خاندان) بنا دیا اور اس طرح خود ساختہ طور پر خاندان نبوت کو وہ درجہ دیا جو اللہ کی کتاب کا درجہ تھا۔
۱۵ ستمبر کی شام کو جالندھر میں صوفیانہ پروگرام (صوفی سانگ) تھا۔ اس پروگرام کے لئے پنجاب کے مشہور وڈالی برادرس( (Wadali Brothers) کو بلایا گیا تھا۔ یہ ایک ٹیم تھی جو نہایت ماہر قسم کے پیشہ ور لوگوں پر مشتمل تھی۔ انہوں نے باجا اور گانا اور ایکٹنگ کے ذریعہ صوفیانہ تصورات اور صوفیانہ قصوں کا پروگرام پیش کیا۔ لوگ بار بار تالیاں بجارہے تھے۔ مگر یہ روحانی پروگرام میرے لئے صرف ایک روحانی اذیت تھا۔ مجھے اس سے روحانی غذا ملنے کے بجائے روحانی تکلیف ملی۔ جالندھر میں امر اجالا کے کرسپا نڈنٹ مسٹر نظام علی نے اپنے اخبار کے لئے انٹرویو لیا۔ ایک سوال یہ تھا کہ کشمیر میں جو ٹر رزم چلا آرہا ہے اس کو اسلامی جہاد کہا جاتا ہے۔ یہ تو کشمیریوں کی اپنی مانگیں ہیں، اس کے لئے یہ لڑائی ہورہی ہے۔
میں نے ان کے سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ میں کشمیر کی لڑائی کو ایک قومی لڑائی سمجھتا ہوں، میں اس کو اسلامی جہاد نہیں سمجھتا۔ یہ ملک و مال کی لڑائی ہے اور اسلامی جہاد اللہ کے راستہ میں ہوتا ہے ملک و مال کے لئے نہیں۔ ایک اور سوال کے تحت انہوں نے کہا کہ دینی مدارس اپنی موجودہ شکل میں بے فائدہ ہو گئے ہیں۔ ضرورت ہے کہ ان مدارس کو ماڈرنائز کیا جائے اور ان میں جدید علوم اور جدید ہنر کو داخل کیا جائے ۔
میں نے کہا کہ مدارس کے اندر اس قسم کی تبدیلی سے میں متفق نہیں ہوں۔ مدارس کو صرف دینی تعلیم کے لئے خاص ہونا چاہئے۔ موجودہ زمانہ میں مدارس کے اندر جو کمی آئی ہے وہ یہ ہے کہ اب ان میں ویسی گہری تعلیم نہیں ہوتی جیسی ہمارے زمانہ میں ہوتی تھی۔ مدارس کے سلسلے میں اصل کام ان کے تعلیمی معیار کو بڑھانا ہے نہ کہ ان کے نصاب میں جدید مضامین کو داخل کرنا۔
‹ Previous page Next page › Contents of August 2001 All issues