Al-Risala · August 2001 · page

آں چہ دانا کند کند ناداں لیک بعد از خرابی بسیار

الرسالہ، اگست ۲۰۰۱

ایک سوال یہ تھا کہ بھاجپا کے صدر نے کہا کہ میں مسلمانوں کو جوڑنے کی کوشش کروں گا۔ مگر مسلمان کہتے ہیں کہ یہ ایک جہانسا ہے، مسلمانوں کے خلاف ایک چال ہے۔

میں نے کہا کہ اسلام امن کا مذہب ہے۔ اسلام ہمیشہ امن کے حالات میں ترقی کرتا ہے۔ اس کی تمام تعلیمات امن پسندی کے اصول پر مبنی ہیں۔ چنانچہ قرآن میں یہ حکم دیا گیا ہے کہ اگر تمہارے دشمن امن کے لئے جھکیں تو تم بھی اس کے لئے جھک جاؤ۔ اگر وہ تم کو دھوکا دینا چاہیں تو اللہ تمہارے لئے کافی ہے۔ (الانفال ۶۱) قرآن کی اس تعلیم کے مطابق ہمیں ان کی پیش کش کو رد کرنے کے بجائے ان سے ڈائیلاگ کرنا چاہئے۔ اور مسلمانوں کی جو معقول مانگیں ہیں وہ ان کے سامنے رکھنا چاہئے ۔ پھر دیکھنا چاہئے کہ وہ اپنی پیش کش میں کتنے سنجیدہ ہیں۔

ایک سوال یہ تھا کہ پچھلے ۵۰ سالوں میں سروس میں مسلمانوں کا تناسب (ratio) بہت گھٹ گیا ہے۔ اس کے بارے میں آپ کیا کہتے ہیں۔

میں نے کہا کہ اصل مسئلہ ملازمتوں میں کمی کا نہیں ہے بلکہ تعلیم میں کمی کا ہے۔ ۱۹۴۷ میں مسلم ملازمین کثرت سے پاکستان چلے گئے۔ اس کا حل صرف یہ ہے کہ مسلمان محنت کر کے تعلیم میں آگے بڑھیں، پھر دھیرے دھیرے پچھلا تناسب دوبارہ قائم ہو جائے گا۔

جالندھر کے ایک ہندی اخبار کے نمائندہ مسٹر رنجیت سنگھ نے مجھ سے ملاقات کی اور اپنے اخبار کے لئے تفصیلی انٹرویو لیا۔ انہوں نے مختلف قسم کے ملی اور ملکی سوالات کئے ۔ ایک سوال یہ تھا کہ مسلمانوں کے جو مدرسے ہیں وہ وقت کی ضرورت کو پورا نہیں کرتے۔ کیا آپ کے نزدیک ان کو ماڈرنائز کرنے کی ضرورت ہے۔ یعنی ان مدرسوں میں کمپیوٹر اور نئے علوم پڑھائے جائیں۔ میں نے کہا کہ میں اس سے متفق نہیں ہوں کہ مدارس کو ماڈرنائز کیا جائے۔ میں نے کہا کہ ہر کمیونٹی کی ایک ضرورت یہ ہوتی ہے کہ اس کے درمیان مذہبی علماء کا ایک طبقہ ہو جو مذہبی اعتبار سے ان کو صحیح رہنمائی دیتا رہے۔ اس مقصد کے لئے ہندوؤں میں پاٹھ شالائیں اور عیسائیوں میں سمینریز (seminaries) ہوتی ہیں۔ اسی طرح مسلمانوں میں مدارس ہیں۔ میں نے کہا کہ سیکولر تعلیم بلاشبہ ضروری ہے مگر اس کا

‹ Previous page Next page › Contents of August 2001 All issues

Printed page