آں چہ دانا کند کند ناداں لیک بعد از خرابی بسیار
الرسالہ، اگست ۲۰۰۱
انتظام الگ اداروں میں ہونا چاہئے نہ کہ مدرسوں میں۔
انہوں نے کہا کہ کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ مدارس کی موجودہ حالت پر مطمئن ہیں۔ میں نے کہا کہ نہیں۔ میں بلا شبہ مدارس میں اصلاح کی ضرورت محسوس کرتا ہوں مگر میرے نزدیک مدارس میں جس اصلاح کی ضرورت ہے وہ یہ نہیں ہے کہ اس میں ماڈرن علوم پڑھائے جائیں۔ بلکہ اصل ضرورت یہ ہے کہ خود قدیم علوم کی تعلیم کو زیادہ بہتر بنایا جائے تاکہ مدارس میں صاحب استعداد علماء پیدا ہوں۔
جہاں تک دنیوی علوم کا تعلق ہے، وہ بھی بلاشبہ ضروری ہیں۔ مگر اس کی صورت یہ نہیں کہ خود ان علوم کو مدارس کے نصاب میں شامل کیا جائے۔ اگر ایسا کیا جائے تو اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ یہاں ایسے لوگ پیدا ہوں گے جو مشہور انگریزی مقولہ ہر چیز کا جانکار، ماہر کسی چیز کا نہیں (Jack of all master of none) کے مصداق ہوں گے۔ اس لئے زیادہ صحیح طریقہ یہ ہے کہ جو طلبہ اس قسم کا ذوق رکھتے ہیں وہ دوارن تعلیم یا بعد از تعلیم سیکولر اداروں سے ربط قائم کر کے علوم دنیوی میں ضروری تربیت حاصل کریں۔
دینی تعلیم کے اعتبار سے موجودہ زمانہ کی سب سے بڑی ضرورت یہ ہے کہ آج ہمارے مدارس میں ایسے افراد پیدا نہیں ہورہے ہیں جو دینی علوم پر ماہرانہ انداز میں رائے دے سکیں جب کہ مدارس کا اصل مقصد یہی ہے۔ مسلم دنیا میں ایسے لوگوں کی شدید قلت ہے جن کی طرف دینی علوم کے معاملہ میں پُر اعتماد طور پر رجوع کیا جائے۔ جو قرآن، حدیث ، فقہ ، اسلامی تاریخ ، عربی ادب، وغیرہ موضوعات پر گہری بصیرت رکھتے ہوں اور واقف کارانہ رائے دے سکیں ۔ یہ مسلم دنیا کا سب سے زیادہ سنگین بحران ہے۔ مدارس کو ماڈرنائز کرنے سے یہ بحران ختم نہ ہوگا، بلکہ وہ موجودہ مدارس کو مستحکم کرنے سے ہوگا۔ موجودہ زمانہ میں مدارس کے پاس وسائل کی کمی نہیں۔ اس کا ایک ثبوت یہ ہے کہ ہر مدرسہ جو پہلے تعلیمی جھونپڑے کی حیثیت رکھتا تھا آج وہ عمارتی اعتبار سے تعلیمی محل کی مانند دکھائی دیتا ہے۔ اس لئے مدارس کو زیادہ بامعنی بنانے کے لئے اصل ضرورت یہ ہے کہ اس کے علمی معیار کو بڑھایا
‹ Previous page Next page › Contents of August 2001 All issues