آں چہ دانا کند کند ناداں لیک بعد از خرابی بسیار
الرسالہ، اگست ۲۰۰۱
جائے نہ یہ کہ اس کے نصاب کو بدلا جائے۔
اس سلسلہ میں ایک قابل ذکر بات یہ ہے کہ ۱۹۷ سے پہلے جب میں ایک عربی مدرسہ میں پڑھ رہا تھا، اس وقت وہاں جو اعلیٰ علمی ماحول تھا وہ آج کے عربی مدارس میں نظر نہیں آتا۔ اس وقت مدارس میں ایسے اساتذہ ہوتے تھے جو اپنے شعبہ علم میں گہری مہارت رکھتے تھے۔ ان کا جذبہ اتنا بڑھا ہوا تھا کہ وہ مسلسل طور پر طلبہ کی علمی نگرانی کرتے تھے اور زیادہ سے زیادہ وقت دے کر ان کو آگے بڑھانے کی کوشش کرتے تھے۔
جالندھر میں میرا قیام ڈاکٹر امبیڈکر ریجنل انجینئرنگ کالج میں تھا۔ یہ ادارہ دس سال پہلے ۱۵۳ ایکڑ رقبہ میں قائم کیا گیا۔ وہ سائنسی اور ٹیکنیکل تعلیم کے لئے مخصوص ہے۔ ۱۶ ستمبر کو کالج کے ہال میں میری ایک تقریر ہوئی۔ اس تقریر کا موضوع تھا روحانیت۔ میں نے اپنی مفصل تقریر میں بتایا کہ روحانیت کا ایک مطلب یہ ہے کہ آپ روحانی ساز یاروحانی نغمہ سے محظوظ ہوں اور اس سے آنند لیں۔ روحانیت کوئی خارجی چیز نہیں۔ وہ خود انسان کے اندر چھپا ہوا ایک فطری جذبہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب کوئی شخص ایک لطیف ساز چھیڑتا ہے یا کوئی شخص روحانی نغمہ چھیڑتا ہے تو اپنے اندر چھپے ہوئے احساس کی بنا پر آدمی اس سے کیف محسوس کرنے لگتا ہے۔
اس قسم کا تجربہ بھی ایک مفید تجربہ ہے۔ کیوں کہ وہ آدمی کے غم کو بھلا دیتا ہے۔ اس سے آدمی کا ذہنی تناؤ (tension) دور ہو جاتا ہے۔ وہ بجائے خود ایک جائز چیز ہے مگر وہی اصل چیز نہیں۔ روحانیت کا اس سے بھی زیادہ بڑا ایک اور پہلو ہے۔ وہ تطبیق روحانیت (applied sprituality) ہے، یعنی روحانیت کو عملی زندگی میں اپنانا۔ روحانی قدروں (spiritual values) کو خارجی معاملات میں استعمال کرنا۔ روحانیت کا یہ دوسرا پہلو کامیاب انسانی زندگی کی تعمیر کے لئے بے حد ضروری ہے۔ اول الذکر کا مطلب اگر روحانی شراب پینا ہے تو ثانی الذکر کا مطلب روحانیت کی بنیاد پر عملی زندگی کی تعمیر کرنا۔
تطبیقی روحانیت سے کیا مراد ہے، اس کی وضاحت کے لئے میں نے کئی مثالیں پیش کیں۔
‹ Previous page Next page › Contents of August 2001 All issues