Al-Risala · August 2001 · page

آں چہ دانا کند کند ناداں لیک بعد از خرابی بسیار

الرسالہ، اگست ۲۰۰۱

مثلاً ایک شخص ایک صوفی سے ناراض ہو گیا۔ اس نے اس کو پتھر مار دیا۔ اس پر صوفی غصہ نہیں ہوئے بلکہ آگے بڑھ کر اس کو سینہ سے لگا لیا۔ آدمی نے کہا کہ میں نے تو آپ کو پتھر مارا اور آپ میرے ساتھ اس قسم کا برتاؤ کر رہے ہیں۔ صوفی نے کہا کہ تمہارے جیسے آدمی ہی کو تو سینہ سے لگانا ہے۔ کیوں کہ تمہارے اندر ایک برائی ہے۔ اس سلوک کا آدمی کے اوپر اتنا زیادہ اثر ہوا کہ آئندہ کے لئے وہ مستقل طور پر صوفی کا شاگرد بن گیا۔

یہی تطبیقی روحانیت ہے۔ نفرت کے جواب میں نفرت کرنا یا تشدد کے جواب میں تشدد کرنا ایک غیر روحانی عمل ہے۔ اس کے برعکس جو آدمی نفرت کے جواب میں خیر خواہی کرے۔ اور تشدد کا جواب امن سے دے اس نے گویا روحانی قدروں کو عملی زندگی میں منتقل کیا۔ یہی کامیاب زندگی کا سب سے زیادہ یقینی فارمولا ہے۔

تقریر کے بعد لوگوں کو سوال کا موقع دیا گیا۔ حاضرین میں زیادہ تر نوجوان طلبہ تھے۔ ان کی طرف سے بہت سے سوالات کئے گئے۔ سوال کرنے والوں میں لڑکے بھی تھے اور لڑکیاں بھی۔ میں نے ہر سوال کا جواب مثبت انداز میں دیا۔ بعد کو لوگوں نے بتایا کہ لوگ میرے جواب سے پوری طرح مطمئن رہے۔

جالندھر میں میری تقریر کے بعد ایک صاحب نے کہا کہ یہ ایک ونڈرفل تقریر تھی۔ میں اس کنفیوزن میں ہوں کہ کون سا مارگ سپرئیر (superior) ہے۔ آپ نے جو چیزیں بتائی ہیں اس کو پریکٹکل روپ کیسے دیں۔ میں نے کہا کہ یہ مسئلہ ایک میٹنگ سے حل نہیں ہو سکتا۔ اس کے لئے آپ کو مزید مطالعہ کرنا چاہئے۔

ایک اور صاحب کے سوالات کے جواب میں میں نے کہا کہ پہلا کام یہ ہے کہ لوگوں میں شعوری بیداری (intellectual awakening) لائی جائے۔ اور ان میں روحانی ترقی (spiritual uplift) پیدا کی جائے۔ اس کے بعد ہی عملی طور پر کوئی بڑا کام کیا جا سکتا ہے۔ ایک اور سوال کے جواب میں میں نے کہا کہ اس وقت اسلام کے نام پر جو دھوم نظر آتی ہے وہ اسلام کے نام

‹ Previous page Next page › Contents of August 2001 All issues

Printed page