Al-Risala · August 2001 · page

آں چہ دانا کند کند ناداں لیک بعد از خرابی بسیار

الرسالہ، اگست ۲۰۰۱

پر پالیتکس ہے۔ اس کا حقیقی اسلام سے کوئی تعلق نہیں۔

میری تقریر کے بعد کالج کے پرنسپل نے اپنی اختتامی تقریر میں کہا کہ مولانا صاحب کی تقریر سے ہم سب لوگوں کو بہت فائدہ ہوا۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے نوجوانوں کے سامنے اس طرح بار بار مثبت پیغام پہنچنا چاہئے تاکہ وہ اپنی زندگی کو درست بنیادوں پر قائم کریں۔ پرنسپل نے کہا کہ مولانا صاحب نے عام فہم سطح (down to earth) پر ہمارے طالب علموں کو بہت اونچی باتیں سمجھا دیں۔ اور ہمارے کالج کی فضا میں اسپرچولٹی (spirituality) بھرنے کی کوشش کی۔ اور کہا کہ ہماری بنتی ہے کہ جب بھی انہیں سے ملے تو وہ ضرور ہمارے لئے ٹائم نکالیں۔

جالندھر سے دوبارہ سورن شتابدی اکسپریس کے ذریعہ دہلی کے لئے واپسی ہوئی۔ میرٹھ اور فرخ آباد سے تعلق رکھنے والے انجینئرنگ کے دو اسٹوڈنٹ اسٹیشن تک آئے۔ ان میں سے ایک طالب علم پہلے منفی ذہن رکھتا تھا۔ اس نے جلسہ کے اندر بہت سے جارحانہ قسم کے سوالات کئے ۔ اللہ کی توفیق سے میں نے ہر سوال کا معتدل انداز میں جواب دیا۔ آخر کار وہ اتنا متاثر ہوا کہ خود اپنے شوق سے مجھے پہنچانے کے لئے اسٹیشن آیا۔

میں سورن شتابدی اکسپریس کے ایگزیکیٹو کلاس میں تھا۔ اچانک مجھے خیال آیا کہ وہ فطری وسائل جن کو استعمال کر کے یہ ٹرین بنائی گئی ہے۔ وہ مسلمانوں کے ہزار سالہ اقتدار کے زمانہ میں بھی اس دنیا میں موجود تھے۔ مگر ان کو واقعہ بنانے کا کام مغربی قوموں نے انجام دیا۔ یہ مغربی قومیں تھیں جنہوں نے پانی کو اسٹیم پاور میں تبدیل کیا، جنہوں نے لوہے کو اسٹیل میں تبدیل کر کے مشینیں بنائیں۔ جنہوں نے میٹر میں الکٹرسٹی کاراز دریافت کیا۔ غرض جدید دور کی مادی ترقیاں سب کی سب مغربی قوموں کی دین ہیں۔

میں نے سوچا کہ مسلمان تقریباً ہزار سال تک عروج کی حالت میں تھے۔ پھر وہ دنیا کو یہ چیزیں کیوں نہ دے سکے۔ اس کو سوچتے ہوئے مجھے ایک اہم حقیقت سمجھ میں آئی۔ وہ یہ کہ اس دنیا میں کوئی قوم ایسی نہیں ہوسکتی جو تنہا سب کچھ کر ڈالے۔ اس لئے کہ یہاں عروج کے ساتھ زوال لگا ہوا ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of August 2001 All issues

Printed page