صدقہ کلچر
الرسالہ، ستمبر ۲۰۰۱
صدقہ کلچر
ایمان آدمی کے اندر جو نفسیات پیدا کرتا ہے اس کا ایک پہلو یہ ہے کہ ایسے آدمی کے اندر دینے کا جذبہ بے پناہ حد تک پیدا ہو جاتا ہے وہ ہر لمحہ دوسروں کو دینے کے لئے آمادہ رہتا ہے، خواہ اس کو دوسروں سے مل رہا ہو یا نہ مل رہا ہو۔
اس سلسلہ میں ایک حدیث وہ ہے جو التر مذی اور ابو داؤد نے نقل کی ہے۔ حضرت ابوسعید خدری کہتے ہیں کہ مدینہ کی مسجد میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے باجماعت نماز ادا کی۔ نماز سے فراغت کے بعد ابھی لوگ مسجد میں بیٹھے ہوئے تھے کہ ایک شخص وہاں آیا۔ چونکہ جماعت ختم ہو چکی تھی، وہ الگ کھڑا ہو کر اپنی نماز پڑھنے لگا۔ یہ دیکھ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کیا تم میں سے کوئی شخص ہے جو اس آدمی کے اوپر صدقہ کرے اور وہ اس کے ساتھ نماز پڑھے (ألا رجل يتصدق علی هَذَا فیصلی معه) پھر ایک صاحب (ابوبکر صدیق) اٹھے اور انہوں نے اس آدمی کے ساتھ نماز ادا کی (مشکاۃ المصابیح ۱/ ۳۶۰)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آدمی کا مقتدی بن کر اس کے ساتھ نماز پڑھنے کو اس کے لئے صدقہ کیوں فرمایا۔ اس کا سبب یہ تھا کہ وہ آدمی جماعت سے محروم رہ گیا تھا اور اب وہ جماعت کے بغیر اپنی نماز ادا کر رہا تھا۔ ایسی حالت میں اگر ایک شخص اس کے ساتھ بطور مقتدی شریک نماز ہوجائے تو اس کی نماز ایک باجماعت نماز بن جائے گی۔ اس طرح یہ شریک ہونے والا آدمی مذکورہ نمازی کو با جماعت نماز کا ثواب دینے کا ذریعہ بن جائے گا۔
اسلام اپنی انسانی تعلیمات کے اعتبار سے گویا ایک قسم کا صدقہ کلچر ہے۔ اسلام آدمی کے اندر دوسروں کے لئے دینے کا جذبہ (spirit of giving) پیدا کرتا ہے۔ اسی جذبہ کی ایک بڑھی ہوئی صورت وہ ہے جس کی مثال مذکورہ حدیث میں نظر آتی ہے۔ ایمان آدمی کو دینے والا انسان بناتا ہے۔ دوسرے لوگ اگر خود سے نہ مانگیں تب بھی وہ ہر وقت دوسروں کو دینے کے لئے تیار رہتا ہے، خواہ اس کو ایسا کرنے کے لئے دوسرے کا مقتدی بننا پڑے۔
‹ Previous page Next page › Contents of September 2001 All issues