Al-Risala · September 2001 · page

آفاقی آواز

الرسالہ، ستمبر ۲۰۰۱

آفاقی آواز

آپ کی میز پر ریڈیو سیٹ رکھا ہوا ہے۔ بظاہر وہ خاموش ہے۔ اس میں کوئی آواز نہیں۔ لیکن جب آپ نے اس کو کھولا تو اچانک اس میں سے آوازیں آنے لگیں۔ بامعنی آوازیں، جس کا ایک ایک لفظ آپ سمجھ رہے تھے۔ جس کی ایک ایک بات آپ کے ذہن میں اترتی چلی جارہی تھی۔ اس کے بعد جب آپ نے اس کا سوئچ دبا کر اس کو بند کیا تو دوبارہ اچانک تمام آوازیں بند ہو گئیں۔ اب بولتا ہوا ریڈیو خاموش ہو گیا۔ اب بھی وہی مشین آپ کی میز پر رکھی ہوئی ہے۔ مگر اس سے کوئی آواز نہیں آ رہی ہے جس کو آپ سن سکیں۔

کائنات بھی اسی قسم کا ایک بہت بڑا خدا کا ریڈیو سیٹ ہے۔ وہ ہر آن پیغامات نشر کر رہا ہے۔ کسی وقفہ کے بغیر ہر لمحہ اس سے آوازیں نکل رہی ہیں۔ وہ ہر صبح و شام یہ اعلان کر رہا ہے کہ یہ دنیا کیا ہے۔ انسان کو یہاں کیوں پیدا کیا گیا ہے۔ انسان کی کامیابی کیا ہے اور ناکامی کیا۔ انسان کہاں سے آیا ہے اور کہاں وہ دوبارہ لوٹ کر جائے گا۔ حق و باطل کا وہ کون سا خدائی معیار ہے جس پر موت کے بعد انسان کو جانچا جائے گا اور جس کے مطابق اس کے ابدی انجام کا فیصلہ ہوگا۔ جس طرح انسانی ریڈیو کی آوازیں ہم صرف اس وقت سنتے ہیں جب کہ ہم اس کو آن کریں اور اسی کے ساتھ ہم اپنے کان کھلے رکھیں۔ اسی طرح کائنات کے عظیم تر ریڈیو سے نکلنے والی آوازیں بھی وہی لوگ سنتے ہیں جو اس کی طرف دھیان لگائیں اور اپنے دماغ کی کھڑکیاں اس کو سننے کے لئے کھلی رکھیں۔ کائناتی ریڈیو بظاہر اپنا پیغام خاموش انداز میں نشر کر رہا ہے مگر سننے والوں کے لئے وہ ہر دوسری آواز سے زیادہ قابل سماعت ہے۔ وہ آسمان کی وسعتوں میں پھیلا ہوا ہے، وہ سورج کی روشنی میں نمایاں ہے، وہ پانی کی لہروں میں موجزن ہے، وہ ہوا کی صورت میں ہمارے چاروں طرف داخل ہو رہا ہے۔ غرض زمین کے پودوں سے لے کر آسمان کے ستاروں تک کوئی چیز ایسی نہیں جو اس آفاقی پیغام رسانی میں مصروف نہ ہو—————سننے والا صرف وہ ہے جو اس کائناتی آواز کو سنے اور اس کو اپنی زندگی کے لئے نشان راہ بنا لے۔

‹ Previous page Next page › Contents of September 2001 All issues

Printed page