Al-Risala · September 2001 · page 24

تالیف قلب

الرسالہ، ستمبر ۲۰۰۱، صفحہ ۲۴

کے لیے جو مال دیا جاتا ہے وہ مؤلفۃ القلوب کے مطالبہ پر نہیں دیا جاتا بلکہ حاکم کی اپنی صوابدید پر دیا جاتا ہے۔ چنانچہ مذکورہ دونوں اشخاص کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ذاتی فیصلہ کے تحت کچھ مال دیا تھا کہ ان کے مطالبہ کی بنیاد پر۔ اس کے بعد جب حضرت ابوبکر کی خلافت کا زمانہ آیا تو ان دونوں صاحبان نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے واقعہ کا غلط استعمال کرتے ہوئے خود اپنی طرف سے یہ مانگ کی کہ ہم کو فلاں زمین عطیہ میں دی جائے۔ یہ ایک قسم کا استحصال (exploitation) تھا۔ حضرت عمر فاروق نے معاملہ کی اس نوعیت کو سمجھا اور درمیان میں پڑ کر دونوں صاحبان کو اس سے روک دیا کہ وہ مسلمانوں کے اموال کو غلط طور پر حاصل کریں۔

حقیقت یہ ہے کہ تالیف قلب اسلام کا ایک مستقل اصول ہے۔ وہ اپنی مختلف صورتوں میں ہر حال میں جاری رہتا ہے خواہ امن کے حالات ہوں یا جنگ کے حالات، اور خواہ اہل اسلام بے اقتدار ہوں یا اقتدار کی حالت میں ہوں، کسی بھی حال میں تالیف قلب کا حکم ساقط یا موقوف نہیں ہوتا۔

دعوت الی اللہ اپنی حقیقت کے اعتبار سے، خیر خواہی کا ایک عمل ہے (الاعراف ۹۷)۔ یہ دراصل انسانیت کے ساتھ خیر خواہی کا جذبہ ہے جو ایک مومن کو مجبور کرتا ہے کہ وہ دوسرے انسانوں کو اللہ کی رحمت کے سائے میں لانے کی کوشش کرے۔ اسی خیر خواہی کی بنا پر مومن یہ کوشش کرتا ہے کہ وہ اپنی بات اس طرح مؤثر انداز میں کہے کہ وہ سننے والے کے دل میں اتر جائے (النساء ۶۳)۔ یہی جذبہ داعی کو مجبور کرتا ہے کہ وہ اپنے مخاطب کی زیادتیوں پر یک طرفہ صبر کرے تاکہ پیغام رسانی کا ماحول بگڑنے نہ پائے (ابراہیم ۱۲)، وغیرہ۔ اس قسم کی مختلف چیزیں گویا آداب دعوت سے تعلق رکھتی ہیں۔ دعوت کے انہی آداب میں سے ایک متعین چیز وہ ہے جس کو تالیف قلب کہا جاتا ہے، یعنی مدعو کی دل جوئی اور اس کی رعایت۔ جس طرح ایک سچا تاجر اپنے گاہک کی آخری حد تک رعایت کرتا ہے تاکہ اس کے ساتھ مستحکم تجارتی تعلقات قائم ہوں۔ اسی طرح داعی ہر ممکن طریقہ سے اپنے مدعو کی دل جوئی کرتا ہے تاکہ وہ اس کے دعوتی پیغام کی طرف پوری طرح راغب ہو۔ حقیقت یہ ہے کہ تالیف قلب دعوت و تبلیغ کا مستقل اصول ہے، کسی بھی حال میں اور کسی بھی صورت میں اس کو ساقط نہیں کیا جاسکتا۔

‹ Previous page Next page › Contents of September 2001 All issues

Printed page