جہاد کا تصور اسلام میں
الرسالہ، ستمبر ۲۰۰۱
جہاد کا تصور اسلام میں
جہاد کا مادہ جہد ہے۔ جہد کے معنی ہیں کوشش کرنا (to strive, to struggle)۔ اس لفظ میں مبالغہ کا مفہوم ہے یعنی کسی کام میں اپنی ساری کوشش صرف کر دینا۔ عربی میں کہا جاتا ہے کہ بذل جہده، یا بذل مجہودہ،یعنی یعنی اس نے اپنی پوری طاقت صرف کر دی ۔ لسان العرب میں ہے کہ: جهد الرجل في كذا أي جد فيه و بالغ (۳/ ۱۳۳) آدمی نے فلاں معاملہ میں جد وجہد کی، یعنی اس میں مبالغہ کی حد تک کوشش کر ڈالی۔
جہاد مبالغہ کا صیغہ ہے۔ یعنی کسی کام میں اپنی ساری ممکن کوشش صرف کرنا۔ لسان العرب میں ہے: الجهاد: المبالغة و استفراغ الوسع فى الحرب أو اللسان أو ما أطاق من شئ (۳/ ۱۳۵)۔ قرآن میں ارشاد ہوا ہے: وجاهدوا في الله حق جهاده (الحج ۷۸) یعنی اللہ کی راہ میں خوب کوشش کرو جیسا کہ کوشش کرنے کا حق ہے۔
عربی زبان میں جہاد اصلاً کوشش یا بھر پور کوشش کے معنی میں ہے۔ دشمن سے جنگ بھی چوں کہ کوشش کی ایک صورت ہے اس لیے تو وسیعی مفہوم کے اعتبار سے دشمن کے ساتھ جنگ کو بھی جہاد کہہ دیا جاتا ہے۔ تاہم اس دوسرے مفہوم کے لیے عربی میں اصل لفظ قتال ہے نہ کہ جہاد۔ دشمن سے جنگ ایک اتفاقی واقعہ ہے جو کبھی پیش آتا ہے اور کبھی پیش نہیں آتا۔ لیکن جہاد ایک مسلسل عمل ہے جو مومن کی زندگی میں ہر دن اور ہر رات جاری رہتا ہے، وہ کبھی ختم نہیں ہوتا۔ وہ مستقل جہاد یہ ہے کہ انسان اپنی زندگی کے ہر معاملہ میں اللہ کی مرضی پر قائم رہے۔ اس قیام میں جو چیز بھی رکاوٹ ہو اس کو اپنی زندگی پر اثر انداز نہ ہونے دے۔ مثلاً نفس کی خواہش، مفاد کی طلب، رسم و رواج کا زور، مصلحتوں کے تقاضے، ذاتی انا کا مسئلہ، مال کی حرص، وغیرہ۔ یہ تمام چیزیں عمل صالح کے لیے رکاوٹ کی حیثیت رکھتی ہیں۔ اس قسم کی تمام رکاوٹوں کو زیر کرتے ہوئے اللہ کے حکم پر قائم رہنا، یہی اصل جہاد ہے، اور یہی جہاد کا ابتدائی مفہوم ہے۔ اس جہاد کے بارہ میں حدیث میں بہت سی روایتیں
‹ Previous page Next page › Contents of September 2001 All issues