Al-Risala · September 2001 · page

جہاد کا تصور اسلام میں

الرسالہ، ستمبر ۲۰۰۱

آئیں ۔ مثلاً مسند امام احمد کی چند روایتیں یہ ہیں :

المجاهد من جاهد نفسه لله (۲۰/۶)

المجاهد من جاهد نفسه في سبيل الله (۲۲/۶)

المجاهد من جاهد نفسه في طاعة الله (۲۲/۶)

موجودہ دنیا ایک امتحان گاہ ہے۔ یہاں کا پورا ماحول اس طرح بنایا گیا ہے کہ آدمی مسلسل طور پر آزمائش کے حالات سے گزرتا رہے۔ ان آزمائشی مواقع پر آدمی کو طرح طرح کی رکاوٹوں کا سامنا پیش آتا ہے۔ مثلاً ایک حق اس کے سامنے آئے مگر اس کا اعتراف کرنے میں اپنا درجہ نیچا ہوتا ہوا دکھائی دے، کسی کا مال آدمی کے قبضہ میں ہو اور اس کو حقدار کی طرف واپس کرنے میں اپنا نقصان نظر آتا ہو، تواضع کی مطلوب زندگی گزارنے میں اپنے نفس پر جبر کرنا پڑے، غصہ اور انتقام کے جذبات کو برداشت کرنا اپنی نفی کے ہم معنی بن گیا ہو، انصاف کی بات بولنے میں یہ اندیشہ ہو کہ لوگوں کے درمیان مقبولیت ختم ہوجائے گی، خودغرضانہ کردار کے بجائے بااصول کردار اختیار کرنے میں سہولیات سے محرومی نظر آتی ہو، وغیرہ۔

اس طرح کے مختلف مواقع پر بار بار آدمی کو اپنی خواہش کو دبانا پڑتا ہے۔ اپنی نفسیات کی قربانی دینا ضروری ہو جاتا ہے۔ حتی کہ بعض اوقات ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اسے اپنی انا کو ذبح کرنا پڑے گا۔ اس طرح کے تمام مواقع پر ہر رکاوٹ کو عبور کرتے ہوئے اور ہر نقصان کو جھیلتے ہوئے حق پر قائم رہنا یہی اصلی اور ابتدائی جہاد ہے۔ جو لوگ اس جہاد پر قائم رہیں وہی آخرت میں جنت کے مستحق قرار دیے جائیں گے۔

جہاد اصلا پر امن جد و جہد کا عمل ہے۔ اسی پر امن جد و جہد کی ایک صورت وہ ہے جس کو دعوت و تبلیغ کہا جاتا ہے۔ قرآن میں ارشاد ہوا ہے : فلا تطع الكافرين و جاهد هم به جهاداً كبيرا (الفرقان (۵۲) یعنی منکرین کی اطاعت نہ کرو اور ان کے ساتھ قرآن کے ذریعہ جہاد کبیر کرو۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اہل باطل جو بات ان سے منوانا چاہتے ہیں اس کو ہرگز نہ مانو۔ بلکہ قرآن کی تعلیمات

‹ Previous page Next page › Contents of September 2001 All issues

Printed page