جہاد کا تصور اسلام میں
الرسالہ، ستمبر ۲۰۰۱
کولے کر ان کے خلاف دعوت و تبلیغ کا عمل کرو اور اس عمل میں اپنی آخری کوشش صرف کر دو۔ اس آیت میں جہاد سے مراد کوئی عسکری عمل نہیں ہے بلکہ اس سے مراد تمام تر فکری اور نظریاتی عمل ہے۔ اس عمل کو ایک لفظ میں ابطال باطل اور احقاق حق کہا جا سکتا ہے۔
جہاد بمعنی قتال بھی اپنے ابتدائی مفہوم کے لحاظ سے پُر امن جد و جہد ہی کا دوسرا نام ہے۔ دشمن کی طرف سے اگر فوجی اور عسکری چیلنج دیا جائے تب بھی اولاً ساری کوشش اس بات کی کی جائے گی کہ اس کا جواب پر امن طریقہ سے دیا جائے ۔ پُر امن طریقہ کو صرف اُس وقت ترک کیا جائے گا جب کہ اس کو استعمال کرنا ممکن ہی نہ ہو، جب کہ قتال کے جواب میں قتال ہی واحد ممکن انتخاب کی صورت اختیار کرلے۔
اس معاملہ میں حضرت عائشہ کی ایک روایت ہمارے لیے رہنما اصول کی حیثیت رکھتی ہے۔ انہوں نے کہا: ما خیر رسول الله صلى الله عليه وسلم بين أمرين إلا اختار أيسرهما (صحیح البخاری، کتاب الادب) یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جب بھی دو چیزوں میں سے ایک چیز کا انتخاب کرنا ہوتا تو آپ ہمیشہ آسان کا انتخاب کرتے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے جب کسی معاملہ میں دو امکانی انتخاب ہوتا ، ایک آسان انتخاب (easier option) اور دوسرا مشکل انتخاب (harder option) تو آپ ہمیشہ مشکل انتخاب کو چھوڑ دیتے اور جو آسان ہوتا اس کو اختیار فرما لینے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اس سنت کا تعلق زندگی کے صرف عام معاملات سے نہ تھا بلکہ جنگ جیسے سنگین معاملہ سے بھی تھا جو اپنی نوعیت کے اعتبار سے مشکل انتخاب کی حیثیت رکھتا ہے۔ آپ کی سیرت کا مطالعہ بتاتا ہے کہ آپ نے کبھی خود اپنی طرف سے جنگ کا اقدام نہیں کیا۔ اور جب آپ کے مخالفین کی طرف سے آپ کو جنگ میں الجھانے کی کوشش کی گئی تو آپ نے ہمیشہ اعراض کی کوئی تدبیر اختیار کر کے جنگ کو ٹالنے کی کوشش کی ۔ آپ صرف اُس وقت جنگ میں شریک ہوئے جب کہ دوسرا کوئی راستہ سرے سے باقی ہی نہ رہا تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کے مطابق ، اسلام میں
‹ Previous page Next page › Contents of September 2001 All issues