جہاد کا تصور اسلام میں
الرسالہ، ستمبر ۲۰۰۱
جارحانہ جنگ نہیں ہے، اسلام میں صرف مدافعانہ جنگ ہے اور وہ بھی صرف اس وقت جب کہ اس سے بچنا سرے سے ممکن ہی نہ رہے۔
حقیقت یہ ہے کہ زندگی میں ہمیشہ دو میں سے ایک کے انتخاب کا مسئلہ رہتا ہے— پُر امن جد و جہد، اور پُر تشدد جد و جہد۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت کا مطالعہ بتاتا ہے کہ آپ نے ہمیشہ اور ہر معاملہ میں یہی کیا کہ پُر تشدد طریق کار کو چھوڑ کر پُر امن طریق کار کو اختیار فرمایا۔ آپ کی پوری زندگی اسی اصول کا ایک کامیاب عملی نمونہ ہے۔ یہاں اس نوعیت کی چند مثالیں درج کی جاتی ہیں۔ ۱۔ پیغمبری ملنے کے بعد فوراً ہی آپ کے سامنے یہ سوال تھا کہ آپ مذکورہ دونوں طریقوں میں سے کس طریقہ کو اختیار کریں۔ جیسا کہ معلوم ہے، پیغمبر کی حیثیت سے آپ کا مشن یہ تھا کہ شرک کو ختم کریں اور توحید کو قائم فرمائیں۔ مکہ میں کعبہ اللہ اسی توحید کے مرکز کے طور پر بنایا گیا تھا مگر آپ کی بعثت کے وقت کعبہ میں ۳۶۰ بت رکھ دیئے گئے تھے۔ اس لحاظ سے بظاہر یہ ہونا چاہیے تھا کہ قرآن میں سب سے پہلے اس طرح کی کوئی آیت اترتی کہ: طہر الکعبة من الأصنام (کعبہ کو بتوں سے پاک کرو) اور اس کو دوبارہ مرکز توحید بنا کر اپنے مشن کو آگے بڑھاؤ۔
مگر کام کا یہ آغاز قریش سے جنگ کرنے کے ہم معنی تھا، جن کی قیادت عرب میں اسی لیے قائم تھی کہ وہ کعبہ کے متولی بنے ہوئے تھے۔ واقعات بتاتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے کعبہ کی عملی تطہیر کے معاملہ سے مکمل طور پر احتراز فرمایا اور اپنے آپ کو صرف توحید کی نظری دعوت تک محدود رکھا۔ یہ گویا پرُ تشدد طریق کار کے مقابلہ میں پُر امن طریق کار کی پہلی پیغمبرانہ مثال تھی۔ ۲۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اسی پُر امن اصول پر قائم رہتے ہوئے تیرہ سال تک مکہ میں اپنا کام کرتے رہے۔ مگر اس کے باوجود قریش آپ کے دشمن بن گئے۔ یہاں تک کہ ان کے سرداروں نے باہمی مشورہ سے یہ طے کیا کہ سب مل کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو قتل کر دیں۔ چنانچہ انہوں نے تلواروں سے مسلح ہو کر آپ کے گھر کو گھیر لیا۔
یہ گویا رسول اور اصحاب رسول کے لیے جنگ کا کھلا چیلنج تھا۔ مگر آپ نے اللہ کی رہنمائی کے
‹ Previous page Next page › Contents of September 2001 All issues