خلاصۂ بحث
الرسالہ، ستمبر ۲۰۰۱
شریعت کے مطابق کسی مسلم حکومت کو بھی جہاد کا حق صرف اس وقت ہے جب کہ وہ باقاعدہ طور پر اس کا اعلان کرے (الانفال ۵۸)۔ اعلان کے بغیر کسی مسلم حکومت کے لیے بھی قتال کرنا جائز نہیں۔ موجودہ زمانہ میں مختلف علاقوں میں مسلمانوں کی طرف سے جہاد کے نام پر جو سرگرمیاں جاری ہیں، آج کل کی زبان میں وہ دو قسم کی ہیں۔ یا تو اس کی حیثیت گوریلا وار (guerrilla war) کی ہے، یا پراکسی وار (proxy war) کی۔ اور یہ دونوں ہی قسم کی جنگیں یقینی طور پر اسلام میں نا جائز ہیں۔ گوریلا وار اس لیے نا جائز ہے کہ وہ غیر حکومتی تنظیموں کی طرف سے چلائی جاتی ہے نہ کہ کسی قائم شدہ حکومت کی طرف سے۔ اور پراکسی وار اس لیے نا جائز ہے کہ کوئی حکومت اس کو بلا اعلان جاری کرواتی ہے، اور اعلان کے بغیر جنگ اسلام میں جائز نہیں۔
خلاصۂ بحث
اسلامی جہاد ایک مثبت اور مسلسل عمل ہے۔ وہ مومن کی پوری زندگی میں برابر جاری رہتا ہے۔ اس مجاہدانہ عمل کے تین بڑے شعبے ہیں۔
۱۔ جہاد نفس۔ یعنی اپنے منفی جذبات اور اپنے اندر کی نامطلوب خواہشات پر کنٹرول کرنا اور ہر حال میں اللہ کی پسندیدہ زندگی پر جمے رہنا۔
۲۔ جہاد دعوت۔ یعنی اللہ کے پیغام کو تمام بندوں تک پہنچانا اور اس کے لئے یک طرفہ ہمدردی اور خیر خواہی کے ساتھ بھر پور کوشش کرنا۔ یہ ایک عظیم کام ہے، اس لئے اس کو قرآن میں جہاد کبیر کہا گیا ہے۔
۳۔ جہاد اعداء۔ یعنی دین حق کے مخالفوں کا سامنا کرنا اور دین کو ہر حال میں محفوظ اور قائم رکھنا۔ یہ جہاد پہلے بھی اصلاً ایک پر امن عمل تھا ۔ اور اب بھی وہ اصلاً ایک پرا من عمل ہے۔ اس اعتبار سے جہاد ایک پر امن جد و جہد ہے نہ کہ حقیقتاً گوریلا مسلح کارروائی۔
‹ Previous page Next page › Contents of September 2001 All issues