خلاصۂ بحث
الرسالہ، ستمبر ۲۰۰۱
سوال
میرے ایک عزیز نے مجھے تین سو صفحہ کی ایک کتاب دی۔ اس کا نام نمازِ نبوی ہے۔ اس کتاب کے ٹائٹل پر یہ حدیث لکھی ہوئی ہے کہ : اُس طرح نماز پڑھو جس طرح تم مجھ کو نماز پڑھتے ہوئے دیکھتے ہو۔ جن صاحب نے مجھ کو یہ کتاب دی انہوں نے کہا کہ عرب میں زیادہ تر لوگ اسی طرح نماز پڑھتے ہیں۔ اس کتاب کے مطابق ، مرد و عورت کے نماز پڑھنے کے طریقہ میں کوئی فرق نہیں۔ اس میں بتایا گیا ہے کہ ہر رکعت کے شروع میں رکوع اور سجدہ سے پہلے ’’ رفع یدین‘‘ ( دونوں ہاتھ کندھوں اور کانوں تک اٹھانا) کرنا ہے۔ عشاء کی وتر کی تیسری رکعت میں دعائے قنوت کی جگہ ایک اور دعا کا پڑھنا ہے۔ اس طرح کے کئی طریقوں پر زور دیا گیا ہے جو ہم لوگوں کی نماز سے الگ ہے۔
سوال یہ ہے کہ کیا اس کتاب میں بتایا ہوا طریقہ ہی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کا طریقہ ہے اور کیا مجھ کو اپنے موجودہ حنفی طریقہ کو چھوڑ کر اس کتاب میں بتائے ہوئے طریقہ پر نماز پڑھنا چاہئے ۔ ( صوفیہ حیدر، بتیا، بہار)
جواب
یہ صحیح ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ : صلوا كما رأيتموني أصلی (اس طرح نماز پڑھو جس طرح تم مجھ کو نماز پڑھتے ہوئے دیکھتے ہو)۔ مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ بات عمومی مفہوم میں ہے نہ کہ کلی مفہوم میں ۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ بنیادی ادائیگی کے اعتبار سے تم لوگ میرے طریقہ پر نماز پڑھو۔ جہاں تک جزئی پہلوؤں کا تعلق ہے، وہ خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے یہاں مختلف ہے۔ اس لیے آپ کے اس قول کو کلی مفہوم میں لینا ممکن ہی نہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کس طرح نماز پڑھتے تھے، اس کو معلوم کرنے کا ذریعہ آپ کے اصحاب کی روایتیں ہیں۔ اصحاب رسول کی یہ روایتیں حدیث کی مستند کتابوں میں تفصیل کے ساتھ موجود ہیں۔ ان روایتوں کا مطالعہ بتاتا ہے کہ اصحاب رسول نے آپ کی نماز کے جو طریقے بتائے ہیں وہ سب کے سب یکساں نہیں ہیں ، بلکہ ان میں بہت سے فرق ہیں۔
‹ Previous page Next page › Contents of September 2001 All issues