Al-Risala · September 2001 · page 36

خلاصۂ بحث

الرسالہ، ستمبر ۲۰۰۱، صفحہ ۳۶

ان روایتوں کا مطالعہ بتاتا ہے کہ نماز کے کچھ اجزاء کے بارے میں تمام صحابہ متفق الرائے ہیں۔ مثلاً فجر کی دو رکعت، ظہر کی چار رکعت اور مغرب کی تین رکعت۔ اسی طرح ہر رکعت میں رکوع ایک بار اور سجدہ دوبار۔ یہ اجزاء وہ ہیں جن میں کسی بھی صحابی کا کوئی اختلاف منقول نہیں۔ مگر نماز کے کچھ اور اجزاء ہیں جن میں خود صحابہ کی روایتوں میں اختلاف پایا جاتا ہے۔ مثلاً کسی روایت سے آمین بالجہر کا ثبوت ملتا ہے تو کسی روایت سے آمین بالسّر کا۔ کسی روایت میں رکوع اور سجدہ کے لیے ایک ذکر ہے تو دوسری روایت میں دوسرا ذکر، وغیرہ۔

آپ نے مذکورہ کتاب میں رسول اللہ کی نماز کا جو طریقہ پڑھا، اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ حدیث کی کتابوں میں صرف اسی طریقہ کا تذکرہ ہے جو اس کتاب میں درج ہے۔ ’’نماز نبوی‘‘ کی یہ تصویر انتخابی طور پر بنائی گئی ہے نہ کہ کلی طور پر۔ یعنی کچھ روایتوں کو لے کر کہہ دیا گیا کہ یہ نماز نبوی ہے اور اس کے برعکس دوسری روایتوں کو یا تو لیا نہیں گیا یا یہ کہہ دیا گیا کہ وہ یا تو منسوخ ہیں یا مرجوح ہیں یا غیر افضل ہیں۔ ترجیح کا یہی خود ساختہ اصول حنفی لوگ بھی استعمال کرتے ہیں اور غیر حنفی لوگ بھی۔ یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کتب حدیث کی جن روایتوں کو منسوخ یا مرجوح یا غیر افضل قرار دیا جاتا ہے، ان کی اس نوعیت کا علم کہاں سے ہوا۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ خود روایت کے متن سے ان کی یہ نوعیت ثابت نہیں ہوتی۔ یہ دعویٰ تمام تر فقہاء کے اپنے قیاس پر مبنی ہے، اور عبادت کے معاملہ میں قیاس قابل اعتبار نہیں۔

جیسا کہ معلوم ہے، یہ قیاسی فقہ تبع تابعین کے دور میں پیدا ہوئی۔ اس سے پہلے صحابہ اور تابعین کے زمانہ میں نماز نبوی کی انتخابی تصویر کا طریقہ رائج ہی نہ تھا۔ صحابہ اور تابعین کے زمانہ میں بھی طریق نماز میں یہ اختلافات عملاً موجود تھے۔ مگر وہ لوگ یہ نہیں کرتے تھے کہ مختلف طریقوں میں سے کسی ایک طریقہ کو درست قرار دینے کی کوشش کریں، بلکہ ان کا کہنا یہ تھا کہ مختلف صحابہ میں سے جس صحابی کے طریقہ کی بھی تم پیروی کرو گے تم ہدایت پر ہوگے اور تمہاری نماز درست نماز قرار پائے گی۔ اصل یہ ہے کہ ظاہری اعتبار سے نماز کے دو حصے ہیں۔ ان میں سے ایک کو ارکانِ نماز اور

‹ Previous page Next page › Contents of September 2001 All issues

Printed page