Al-Risala · September 2001 · page 42

خلاصۂ بحث

الرسالہ، ستمبر ۲۰۰۱، صفحہ ۴۲

جواب

موجودہ قسم کی تکفیر کا طریقہ جو کچھ مسلمانوں میں رائج ہے، وہ یقیناً غلط ہے۔ یہ ایک بدعت ہے۔ صحابہ کرام کے دور میں اس قسم کی تکفیر کا رواج بالکل نہ تھا اور جس طریقہ کا رواج صحابہ کرام کے یہاں نہ پایا جائے وہ بلا شبہ قابلِ رد ہے۔

ایک دوسرے کو کافر قرار دینے کا طریقہ سلطنتِ عباسی کے دور میں شروع ہوا۔ یہ طریقہ چند سو سال تک جاری رہا۔ اس زمانہ میں لوگوں کو اس سے دلچسپی نہ رہی کہ وہ غیر مسلموں کو اسلام میں داخل کریں۔ اس کے بجائے وہ اس نامحمود عمل میں مشغول ہو گئے کہ وہ مسلمانوں کو اسلام سے خارج قرار دیں۔ تکفیر کا یہ طریقہ چند سو سال تک جاری رہا۔ یہاں تک کہ علماء نے اس سلسلہ کو بند کرنے کے لئے متفقہ طور پر یہ اعلان کیا کہ ہم اہل قبلہ میں سے کسی کی تکفیر نہیں کریں گے (لانكفر احدا من اهل القبلة)۔ حقیقت یہ ہے کہ تکفیر و تفسيق کے موجودہ ہنگامہ کا کوئی بھی شرعی جواز نہیں۔ اپنی حقیقت کے اعتبار سے یہ گویا ایک مذہبی گالی گلوچ ہے نہ کہ کوئی مطلوب مذہبی عمل۔

سوال

غیر مسلموں تک اسلام کا پیغام پہنچانا مسلمانوں کی اولین ذمہ داری ہے۔ علماء کرام اور دانشورانِ اسلام اگر اپنی اصلاح کے ساتھ ساتھ اسلام کا پیغام غیر مسلم حضرات تک حکمت کے ساتھ پہنچائیں تو امید ہے کہ غیر مسلموں کی ایک کثیر تعداد اسلام کے بارے میں اپنے دل میں نرم گوشہ رکھے گی اور قرآن پاک جیسی کتاب کو جلانے کے بجائے اسے سینے سے لگائے گی اور اس کا مطالعہ کرے گی تو قبولیتِ اسلام کے لئے بھی تیار ہو جائے گی۔ مگر اس معاملہ میں اس قدر کوتاہی برتی جا رہی ہے کہ جیسے یہ کرنے کا کوئی کام ہی نہیں۔ اس سلسلہ میں کن لوگوں کو کن حکمتوں کے ساتھ یہ کام کرنا چاہئے (شکیل احمد فار میسٹ، بھنڈارہ)

جواب

موجودہ زمانہ کے مسلمان جو معمولی معمولی واقعات پر مشتعل ہو کر جلوس نکالتے ہیں اور جلاتے

‹ Previous page Next page › Contents of September 2001 All issues

Printed page