Al-Risala · September 2001 · page 44

پُرورٹ، اس باری

الرسالہ، ستمبر ۲۰۰۱، صفحہ ۴۴

ایک خط

برادر محترم جسٹس ایم ایم قاضی صاحب السلام علیکم ورحمۃ اللہ ناگپور کا سفر میرے لئے ایک خوشگوار تجربہ تھا۔ یکم جولائی ۲۰۰۱ کو ناگپور کی انجمن حامی اسلام کے تحت جو غیر معمولی کامیاب اجتماع ہوا وہ اپنے اندر کئی سبق آموز پہلو رکھتا ہے۔ اس کا ایک پہلو یہ ہے کہ یہ اجتماع صرف ایک مقرر (راقم الحروف) کے نام پر کیا گیا تھا۔ پھر بھی اتنی بڑی تعداد میں مسلمان اس میں شریک ہوئے کہ ہال کے اندر اور ہال کے باہر کی تمام کرسیاں بھرگئیں۔ عام طور پر پبلک جلسوں میں لوگ زیادہ تعداد میں دو وجہوں سے آتے ہیں۔ یا تو جلسہ کسی برنگ اشو(burning issue) پر کیا گیا ہو، یا اسٹیج پر بہت سے مقرر بیٹھے ہوں جو مختلف طبقوں کے لئے کشش کا باعث ہوسکیں۔ لیکن ناگپور کا مذکورہ جلسہ اس قسم کے کسی عنوان کے بغیر کیا گیا۔ اسی طرح منتظمین نے شخصی نام کے ساتھ صرف یہ اعلان کیا تھا کہ:

Maulana Wahiduddin will address a gathering on Sunday the Ist July 2001 at 10 am in Anjuman Polytechnic Hall, Sadar, Nagpur. اس کے باوجود شہر کے تعلیم یافتہ مسلمان اتنی بڑی تعداد میں آئے کہ لوگوں کو یہ کہتے ہوئے سنا گیا کہ ناگپور میں یہاں کے تعلیم یافتہ مسلمانوں کا اتنا بڑا اجتماع اس سے پہلے شاید کبھی نہیں ہوا۔ یہ واقعہ ہندوستانی مسلمانوں کے اندر آنے والی ایک عظیم ذہنی تبدیلی کی علامت ہے۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ اس ملک کے مسلمان ہمارے تعمیری پیغام کی طرف تیزی سے راغب ہورہے ہیں۔ اب وہ دور ختم ہو چکا ہے جو ۱۹۹۲ کے بعد کچھ لوگوں کی طرف سے بے بنیاد پروپیگنڈہ کے نتیجہ میں وقتی طور پر پیش آیا تھا۔ اس واقعہ کا دوسرا پہلو وہ ہے جس کو میں نے اپنی تقریر میں بیان کیا تھا۔ میں نے کہا تھا کہ ہمارے اخباروں میں عام طور پر ناگپور کا تعارف اس حیثیت سے کیا جاتا ہے کہ وہ آرایس ایس کاسنٹر ہے۔ آرایس ایس کا یہ سنٹر تووسیع شہر کے کسی گوشہ میں ایک محدود رقبہ کے اندر واقع ہوگا۔ دوسری طرف

‹ Previous page Next page › Contents of September 2001 All issues

Printed page