میرٹھ کا سفر
الرسالہ، اکتوبر ۲۰۰۱، صفحہ ۱۲
(میرٹھ) اور مولانا محمد راشد خاں قاسمی (منڈولی) تھے۔
میرٹھ میں نوجوانوں کا ایک گروپ ہے جو مثبت فکر کی بنیاد پر اکٹھا ہوا ہے۔ وہ تعمیر اور دعوت کے میدان میں خاموش کام کر رہا ہے۔ ان لوگوں کا کہنا ہے کہ لمبی مدت سے میرٹھ کی تصویر ایک پر تشدد شہر کی بنی ہوئی ہے۔ ہم اللہ کی مدد سے اس تصویر کو بدلیں گے اور میرٹھ کو امن کا شہر بنائیں گے۔
مولانا محمد عرفان قاسمی نے بذریعہ ٹیلی فون بتایا تھا کہ اس گروپ کی خواہش ہے کہ میں میرٹھ کا سفر کروں۔ اور وہاں کچھ وقت ان نوجوانوں کے ساتھ گزاروں۔ میں نے اس دعوت کو فوراً منظور کر لیا۔ اگر چہ آج کل میرا یہ حال ہے کہ میں اپنے کچھ علمی کاموں میں اتنا زیادہ مشغول ہو گیا ہوں کہ اسفار کا سلسلہ بہت کم کر دیا ہے۔ اس دوران میں نے بہت سے ملکی اور غیر ملکی سفر کے دعوت نامے قبول نہیں کئے ۔ اگست - ستمبر ۲۰۰۰ کے لئے مجھے کئی بیرونی کانفرنسوں میں شرکت کے دعوت نامے موصول ہوئے۔ مثلاً پرتگال، فلسطین، نیویارک، اور انڈونیشیا، وغیرہ۔ مگر میں وہاں نہ جا سکا۔ لیکن میرٹھ کے نوجوانوں کے تعمیری اور دعوتی جذبات میرے لئے اتنا زیادہ پر کشش ثابت ہوئے کہ میں ان کی دعوت کو قبول کئے بغیر نہ رہ سکا۔ اس پروگرام کے مطابق ۱۰ ستمبر ۲۰۰۰ کی صبح کو دہلی سے میرٹھ کا سفر کیا اور ۱۵ ستمبر کی رات کو وہاں سے واپسی ہوئی ۔ ہم لوگ دہلی سے روانہ ہوئے تو سورج طلوع ہو چکا تھا۔ اس کی روشنی چاروں طرف پھیلتی ہوئی دکھائی دی۔ اس منظر کو دیکھ کر مولانا محمد عرفان صاحب نے کہا کہ اس پروگرام کے لئے میں میرٹھ سے روانہ ہوا تو رات کا اندھیرا پھیلا ہوا تھا۔ اب ہم دہلی سے میرٹھ کا سفر کر رہے ہیں تو ہر طرف روشنی پھیل چکی ہے۔ یہ گویا علامت ہے جو بتا رہی ہے کہ ہمارا تاریک دور بہت جلد ختم ہونے والا ہے اور عنقریب ہمارے لئے روشن دور کا آغاز ہونے والا ہے۔ بلکہ اس کا آغاز ہو چکا ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of October 2001 All issues