Al-Risala · October 2001 · page 13

میرٹھ کا سفر

الرسالہ، اکتوبر ۲۰۰۱، صفحہ ۱۳

دہلی کی سڑکوں پر ہماری گاڑی دوڑ رہی تھی۔ سڑک کے دونوں طرف درخت کے سر سبز مناظر تھے۔ ان درختوں کے پیچھے دونوں طرف جدید طرز کی عمارتیں جھانکتی دکھائی دے رہی تھیں۔ ان سب کے اوپر سورج ایک عالمی چراغ کی مانند ہر طرف روشنی بکھیر رہا تھا۔ تھوڑی تھوڑی دیر کے بعد دوڑتی ہوئی گاڑیاں سڑک پر نظر آتی تھیں۔ میں نے سوچا کہ اگر ہم آج سے پانچ نو سال پہلے اس راستہ پر چل رہے ہوتے تو اس وقت یہاں منظر بالکل دوسرا ہوتا۔ پچھلی صدیوں میں دنیا نے "غیر تمدن دور" سے نکل کر "متمدن دور" میں قدم رکھا ہے۔ تاہم اس ظاہری ترقی کے باوجود آج کے مسائل، ماضی کے مسائل کے مقابلہ میں بہت زیادہ ہیں۔

پچھلے دور کا انسان سکون کی زندگی گزارتا تھا، آج کسی کو سکون حاصل نہیں۔ پچھلے دور میں انسانی قدریں زندہ تھیں، مگر آج کے زمانہ میں ان کا وجود بہت کم نظر آتا ہے۔ پچھلے دور کے انسان کے پاس مذہب اور اخلاق کے لئے کافی وقت ہوتا تھا، مگر آج کا انسان مادی بھاگ دوڑ میں اتنا مصروف ہے کہ مذہب اور اخلاق جیسی چیزوں کے لئے اس کے پاس کوئی وقت نہیں۔

میں اس سوال پر غور کر رہا تھا کہ ہماری گاڑی کے پاس سے ایک بھاری ٹرک گزرا، اس کے انجن سے نکلنے والا تیز دھواں ہماری گاڑی کی کھڑکی سے اندر داخل ہوا۔ اس تیز دھوئیں نے تھوڑی دیر کے لئے میرے ذہن کو منتشر کر دیا۔ مگر اسی تلخ تجربہ میں میرے سوال کا خاموش جواب بھی چھپا ہوا تھا۔ ٹرک کا کثیف دھواں گویا جھنجھوڑنے والی زبان میں میرے سوال کا جواب تھا۔ یہ دھواں میرے لئے جدید تہذیب کی ایک پر شور علامت بن گیا۔ اس نے علامتی طور پر مجھے بتایا کہ جدید تہذیب اگرچہ بظاہر خوشنما تر قیاں لائی ہے مگر اسی کے ساتھ وہ بے شمار مشینی برائیاں بھی لائی ہے۔ اس کی ایک مثال ٹرک کا یہ کثیف دھواں ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of October 2001 All issues

Printed page