میرٹھ کا سفر
الرسالہ، اکتوبر ۲۰۰۱، صفحہ ۱۴
میں نے اپنے دل میں سوچا کہ قدیم زمانہ میں انسان نے ”جنتِ شداد“ جیسے افسانے بنائے ۔ اور پریوں کی کہانیاں لکھیں۔ یہ گویا انسان کی چھپی ہوئی تمنا کا اظہار تھا کہ وہ اسی دنیا میں اپنی جنت تعمیر کر سکے۔ جدید سائنسی و صنعتی انقلاب کے بعد جو بے شمار قسم کی مادی ترقیاں ظہور میں آئیں اس نے گویا قدیم انسان کی آرزوؤں کو واقعہ بنا دیا۔ اب ”جنت شداد“ بھی عملاً تعمیر ہو گئی اور پریوں کی دنیا بھی اب ایک ایسا عمومی واقعہ ہے جس کو ہر آدمی تصویروں کی صورت میں اخبار، ٹی وی اور سینما وغیرہ کے ذریعہ دیکھ رہا ہے۔ مگر عین اسی وقت انسان کو محسوس ہوا کہ ان ظاہری ترقیوں نے اس سے وہی اصل چیز چھین لی ہے جو اس کو سب سے زیادہ مطلوب تھی، یعنی خوشی اور سکون۔ یہ سوچتے ہوئے مجھے پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کا وہ ارشاد یاد آیا جو آپ نے غزوہ خندق کے موقع پر فرمایا تھا ـــــ اللهم لا عیش إلا الآخرة۔
دورِ جدید اپنی تمام ظاہری ترقیوں کے ساتھ گویا اس ارشادِ رسول کی تفسیر ہے۔ سکون و مسرت سے خالی یہ خوشنما مادی ترقیاں گویا خاموش زبان میں یہ اعلان کر رہی ہیں کہ انسان جو پرُ راحت اور پرُ مسرت زندگی چاہتا ہے وہ صرف آخرت کی دنیا میں مل سکتی ہے۔ انسان کو چاہیے کہ موجودہ دنیا کے وسائل کو جنت کی تعمیر میں لگائے : لمثل هذا فلیعمل العاملون (الصافات ٦١) مولانامحمد عرفان قاسمی (۲۰ سال) ۱۹۸۰ سے الرسالہ کا مسلسل مطالعہ کر رہے ہیں۔ انہوں نے الرسالہ کے بارے میں اپنے تاثرات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ الرسالہ بند ذہن کو کھولتا ہے اور ذہنی جمود کو توڑ کر اس کو آفاقی بناتا ہے۔ الرسالہ پڑھنے سے پہلے مجھے ایسا معلوم ہوتا تھا کہ امت مسلمہ کا سفر ایک بند گلی میں پہنچ کر رک گیا ہے۔ دوسرے اخبارات ورسائل اور جلسوں کی تقریروں سے یہی سبق ملتا تھا۔ مگر جب میں نے الرسالہ پڑھنا شروع کیا تو ایسا محسوس ہوا کہ میں کھلی شاہراہ پر آگیا ہوں ۔ اب ہر طرف تاریکی کے بجائے روشنی اور تنگی کے بجائے کشادگی نظر آنے لگی۔
‹ Previous page Next page › Contents of October 2001 All issues