Al-Risala · October 2001 · page 15

میرٹھ کا سفر

الرسالہ، اکتوبر ۲۰۰۱، صفحہ ۱۵

ہماری گاڑی چلتی ہوئی مودی نگر کے صنعتی شہر میں پہنچی جو دہلی اور میرٹھ کے در میان واقع ہے۔ میرے شریک سفر مولا نا محمد راشد خاں قاسمی (۳۰ سال) نے بتایا کہ میری پیدائش اسی مودی نگر میں ہوئی۔ میرے والد عبد المعید خاں مرحوم (وفات (۱۹۹۷) یہاں سرو سن کرتے تھے۔ میں نے مولا نا محمد راشد صاحب سے پوچھا کہ الرساله مشن کے بارے میں آپ کا تاثر کیا ہے۔ انہوں نے ان الفاظ میں اپنا تاثر بتایا کہ جب میں مظاہر العلوم سہار نپور میں (۱۹۸۳ء - ۸۷) میں زیر تعلیم تھا تو مولا نا محمد عرفان قاسمی نے جو میرے استاذ بھی ہیں، اپنی طرف سے میرے نام الرساله جاری کر دیا۔ جب میں نے الرساله پڑھنا شروع کیا تو ابتداء میں مجھے اس کے بارے میں شکوک و شبہات پیدا ہوئے، خاص طور پر اس بات پر کہ الرساله میں ہمیشہ صبر کی بات کی جاتی ہے جب کہ میں دیکھ رہا ہوں کہ نہ صرف ہندوستان میں بلکہ ساری دنیا میں مسلمانوں کے اوپر ظلم و ستم کیا جا رہا ہے۔ ایسے میں صبر کی تلقین کرنا گویا مسلمانوں کو الٹی خوراک دینا ہے۔ تاہم میں ان شکوک کے باوجود الرساله پڑھتا رہا۔ آخر کار مجھ پر یہ حقیقت کھلی کہ الرساله میں جو بات کہی جاتی ہے وہ ہمیشہ قرآن وحدیث کے حوالہ سے کہی جاتی ہے۔ وہ الرساله کی ذاتی بات نہیں ہوتی۔

پھر مجھے محسوس ہوا کہ جب میں دوسروں کی تحریریں پڑھتا ہوں تو ان میں ہمیشہ لڑائی جھگڑا اور نفرت و تشدد ملتا ہے۔ ان تحریروں میں نہ سکون کا سامان ہوتا ہے اور نہ ان سے مستقبل کے بارے میں روشنی ملتی ہے۔ اس کے بر عکس الرسالہ کی تحریروں میں ذہنی اطمینان کا سامان ہوتا ہے، اور اسی کے ساتھ ایسی واضح رہنمائی ہوتی ہے جس سے راستے روشن ہوں اور عمل کے مواقع نظر آئیں۔ اب میری شدید خواہش یہ ہے کہ اللہ کی توفیق سے آخر عمر تک اس مشن سے جڑا رہوں اور اس کے مثبت پیغام کو ساری دنیا میں پہنچاؤں۔ مولا نا محمد راشد خاں نے بتایا کہ میرے والد عبد المعید خاں صاحب مرحوم اچھے

‹ Previous page Next page › Contents of October 2001 All issues

Printed page