میرٹھ کا سفر
الرسالہ، اکتوبر ۲۰۰۱، صفحہ ۱۶
تعلیم یافتہ اور ذہین شخص تھے۔ انہوں نے فرمایا کہ والد صاحب کے آخری زمانہ میں ان کو الرسالہ پڑھ کر سنایا کرتا تھا۔ وہ اس کے مضامین کو سن کر بہت خوش ہوتے تھے اور کہتے تھے کہ بیٹے تم اس کو ضرور پڑھا کرو۔
انہوں نے کہا کہ میرے والد صاحب نے مختلف ملکوں کا سفر کیا تھا۔ مسلم دنیا میں انہوں نے ہر جگہ ظلم و تشدد کے تذکرے سنے تھے۔ مسلم رہنماؤں کی بھڑکئی تقریبوں اور جو شیلی تحریروں سے وہ بہت نالاں تھے۔ موجودہ زمانہ کے مسلمانوں کے مسائل کے لئے وہ خود ان کے رہنماؤں کو ذمہ دار ٹھہراتے تھے۔ جب ان کو الرسالہ ملا تو انہیں محسوس ہوا کہ یہ عین وہی چیز ہے جسے ان کی فطرت تلاش کر رہی تھی۔ جب بھی الرسالہ کا نیا شمارہ آتا تو وہ اس کو پڑھ کر بہت خوش ہوتے اور بار بار اس کے لئے دعائیں کرتے۔ راستہ میں مولانا محمد عرفان قاسمی صاحب نے بتایا کہ میلہ نوچندی (میرٹھ) کے ترنگے گیٹ پر پہنچنے پر ہمارے ساتھی آپ کا استقبال کرنا چاہتے ہیں۔ وہ وہاں کھڑے ہوئے آپ کو ملیں گے۔ انہوں نے مولانا محمد عرفان صاحب سے پوچھا تھا کہ ہم ان کو ہار ڈالنا چاہتے ہیں۔ ہار ڈالنا جائز ہے یا نا جائز۔
میں نے یہ بات سنی تو میں نے کہا کہ مجھے ذاتی طور پر اس قسم کی نمائش چیزوں سے کوئی دلچسپی نہیں۔ مگر اسی کے ساتھ میری رائے یہ ہے کہ ہر چیز کو جائز اور نا جائز کا سوال بنانا خود نا جائز ہے۔ کیوں کہ فقہ اسلامی کا مسئلہ مسئلہ ہے کہ الاصل فی الاشیاء الاباحۃ (چیزوں کی اصل ان کا مباح ہونا ہے)
سفر کرتے ہوئے ہم لوگ میرٹھ پہنچے تو گھڑی میں 9 بج چکے تھے۔ یہاں سڑک کے کنارے الرسالہ کے قارئین کا ایک گروہ موجود تھا۔ ان سے ملاقات کے بعد ہم لوگ جناب محمد شہزاد علی خاں صاحب کے مکان (شاستری نگر) پہنچے۔ یہاں تقریبا دو گھنٹہ قیام رہا۔ میرٹھ کے قارئین الرسالہ یہاں جمع ہو گئے۔ ان کی تعداد تقریبا ۳۰ تھی۔
‹ Previous page Next page › Contents of October 2001 All issues