میرٹھ کا سفر
الرسالہ، اکتوبر ۲۰۰۱، صفحہ ۱۷
ان لوگوں کی طرف سے مختلف قسم کے سوالات پیش کئے جاتے رہے جن کے جواب میں نے قرآن اور حدیث کی روشنی میں دئے۔ صحیح بخاری (کتاب المرضی) کی ایک حدیث نقل کرتے ہوئے میں نے کہا کہ مؤمن کی صفت خاص یہ ہے کہ اس کے اندر اکثر نہیں ہوتی۔ وہ تواضع اور فروتنی میں جیتا ہے۔ اللہ کی عظمت کا یقین اور آخرت کی جواب دہی کا احساس اس سے اکڑ کی نفسیات چھین لیتا ہے۔ پھر میں نے کہا کہ اکثر کی نفسیات نہ ہونا کوئی کمزوری کی بات نہیں ہے۔ اس دنیا میں سب سے زیادہ طاقتور انسان وہ ہے جو اکڑ جیسے جذبات سے خالی ہو جائے۔
ایک اور سوال کے جواب میں، میں نے کہا کہ موجودہ زمانہ کے مسلمانوں کے مسائل کا واحد حل دعوت ہے۔
انسان کے اندر اعلیٰ صفات پیدا کرنے کے لئے ضروری ہے کہ اس کے سامنے ایک اعلیٰ مشن ہو۔ اعلیٰ مشن ہی وہ واحد کلید ہے جو کسی شخص کے اندر اعلیٰ انسانی صفات پیدا کرتی ہے۔ موجودہ زمانہ کے مسلمانوں میں اگر دعوت کی اسپرٹ صحیح معنوں میں پیدا ہو جائے تو ان کے اندر دینی اسپرٹ بھی آجائے گی۔ اور اتحاد واتفاق بھی پیدا ہوگا۔ اخلاقی اور انسانی صفات بھی پیدا ہوں گی اور سب سے بڑھ کر یہ کہ وہ دعوت کام کی بنا پر اللہ کی خصوصی رحمتوں کے مستحق قرار پائیں گے۔
ایک اور سوال کے جواب میں، میں نے کہا کہ یہ نظریہ غلط ہے کہ پہلے اپنی اصلاح کرو اور پھر دعوت کا کام کرو۔ ابن کثیر نے اپنی تفسیر (جلد اول صفحہ ۸۱) میں لکھا ہے کہ علماء کا اس پر اتفاق ہے کہ دعوت کے لئے ذاتی اصلاح شرط نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ ایک غیر عملی شرط ہے۔ اگر لوگوں کے دل میں یہ بٹھا دیا جائے کہ اپنی اصلاح کی تکمیل سے پہلے دعوتی کام نہ کرنا چاہئے تو دعوتی کام کبھی وجود میں نہیں آئے گا، ایک حقیقی مومن کبھی بھی یہ یقین نہیں کر سکتا کہ اس کی اصلاح ہو گئی، کیوں کہ حقیقی مومن اللہ سے
‹ Previous page Next page › Contents of October 2001 All issues