Al-Risala · October 2001 · page 18

میرٹھ کا سفر

الرسالہ، اکتوبر ۲۰۰۱، صفحہ ۱۸

ڈرنے والا انسان ہوتا ہے۔ وہ سب کچھ کرنے کے باوجود یہ سمجھتا ہے کہ اس نے کچھ بھی نہیں کیا۔ گویا کہ مومن وہ ہے جو ہمیشہ اپنے آپ کو غیر اصلاح یافتہ سمجھے۔ ایسی حالت میں دعوت کا کام ہمیشہ رکارہے گا۔ اگر اہل ایمان ہمیشہ اپنے بارے میں یہ سمجھتے رہیں کہ میں تو ایک غیر اصلاح یافتہ انسان ہوں تو پھر میں دعوت کا کام کیسے کروں۔ اس لئے ضروری ہے کہ دعوت عام اور ذاتی اصلاح کو ایک دوسرے سے علیحدہ رکھا جائے۔ پھر میں نے کہا کہ دعوت کی سب سے زیادہ اہم اور لازمی شرط یہ ہے کہ داعی اور مدعو کے درمیان نفرت اور بے زاری کی فضا نہ ہو بلکہ معتدل فضا ہو، یہی چیز دعوت کے سلسلے میں سب سے زیادہ اہمیت رکھتی ہے۔ قرآن کا حوالہ دیتے ہوئے میں نے کہا کہ مسلمانوں پر فرض کے درجہ میں ضروری ہے کہ وہ یک طرفہ صبر و اعراض کے ذریعہ مسلم اور غیر مسلم کے درمیان تلخی کو دور کریں۔ مفروضہ اور غیر مفروضہ ہر قسم کی زیادتیوں کو یک طرفہ طور پر برداشت کرتے ہوئے دعوت کا ماحول پیدا کریں۔ یہ خدا نخواستہ بزدلی کی بات نہیں ہے بلکہ یہ ایک عظیم ترین عبادت ہے۔ جو شخص اس روش کا ثبوت دے اس کو بے حساب اجر عطا کیا جائے گا۔

ایک صاحب نے سوال کیا کہ آپ ابھی تک زیادہ تر ذاتی طور پر کام کر رہے ہیں، آپ نے کوئی بڑا ادارہ نہیں بنایا۔ میں نے کہا کہ الرسالہ مشن سے وابستہ لوگوں کا حلقہ اللہ کے فضل سے ہر جگہ موجود ہے، جیسا کہ خود میرٹھ میں آپ دیکھ رہے ہیں۔ یہی ہمارا ادارہ ہے۔ درودیوار کی صورت میں جو بڑے بڑے ادارے قائم ہوتے ہیں وہ کوئی بہت اچھی علامت نہیں۔ اس قسم کے ادارے ہمیشہ کسی امت کے دور زوال میں بنائے جاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ کسی بھی نبی کی زندگی میں موجودہ قسم کے بڑے بڑے ادارے قائم نہیں ہوئے۔ پیغمبر کی زندگی میں اس کا مشن اسپرٹ کے زور پر چلتا ہے۔ اس زمانہ میں اسپرٹ ہی ادارہ کا قائم مقام ہوتی ہے۔ بعد کی نسلوں میں جب اسپرٹ

‹ Previous page Next page › Contents of October 2001 All issues

Printed page