Al-Risala · October 2001 · page 19

میرٹھ کا سفر

الرسالہ، اکتوبر ۲۰۰۱، صفحہ ۱۹

کمزور پڑ جاتی ہے اور ظواہر پسندی بڑھ جاتی ہے ، اس وقت بڑی بڑی عمارتیں بنتی ہیں اور عالیشان ادارے قائم ہوتے ہیں۔ گہرائی کے ساتھ دیکھئے تو یہ ادارے دراصل روح دین کا قبرستان ہوتے ہیں۔ ان عالیشان اداروں میں بظاہر سب کچھ ہو تا ہے مگر وہی چیز نہیں ہوتی جو اصلاً مطلوب ہے، یعنی دین کی روح اور اس کی اسپرٹ ۔ اسی حقیقت کو اقبال نے خدا کی طرف سے اس طرح بیان کیا ہے ۔

میں ناخوش و بیزار ہوں مرمر کی سلوں سے میرے لئے مٹی کا حرم اور بنا دو مسٹر ایس شفیق احمد ایڈوکیٹ سے ملاقات ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ مسلم معاشرہ میں عصبیت، طبقہ واریت اور ذات پات کے رجحان سے ملت کو منتشر و منقسم کیا جا رہا ہے۔ اس سیاسی حربہ سے، مسلم کی حفاظت کے لئے دعوت کا کیالا ئحہ عمل ہے۔ میں نے کہا کہ ایک درخت سوکھ رہا ہو تو اس کو دوبارہ ہرا کرنے کے لئے ایک سو ایک نسخے نہیں ہوتے بلکہ ایک ہی صحیح نسخہ ہوتا ہے، وہ یہ کہ اس کی جڑوں کو پانی دیا جائے۔ میں نے کہا کہ موجودہ زمانہ کے مسلمانوں میں جو کمیاں ہیں وہ سب کی سب اس لئے ہیں کہ وہ ایک بے حقیقت گروہ بن کر رہ گئے ہیں۔ فرد کا معاملہ ہو یا قوم کا معاملہ، دونوں ہی کے لئے اصلاح کا نسخہ صرف ایک ہے وہ یہ کہ ان کو ایک اعلیٰ مقصد پر کھڑا کر دیا جائے۔ اعلیٰ مقصد اپنے آپ تمام انسانی صفات پیدا کر دیتا ہے۔ ہم مسلمانوں کو اسی اعلیٰ مقصد پر کھڑا کرنا چاہتے ہیں اور وہ مقصد بلاشبہ دعوت الی اللہ ہے۔ جس دن مسلمانوں میں دعوت الی اللہ بطور مقصد شامل ہو جائے، تو بقیہ تمام صفات اپنے آپ کے اندر پیدا ہو جائیں گی۔

ساڑھے گیارہ بجے ہم لوگ مسجد الفاروق (زیدی فارم) پر پہنچے، یہاں عمومی جلسہ رکھا گیا تھا۔ مسلمانوں کے علاوہ، کچھ غیر مسلم حضرات بھی موجود تھے۔ یہ جلسہ تقریباً ڈیڑھ گھنٹے تک جاری رہا۔ اس جلسہ میں تقریر کا عنوان اسلام اور امن تھا ۔ میں

‹ Previous page Next page › Contents of October 2001 All issues

Printed page