Al-Risala · October 2001 · page 20

میرٹھ کا سفر

الرسالہ، اکتوبر ۲۰۰۱، صفحہ ۲۰

نے کہا کہ امن کی تعریف عام طور پر جنگ کی غیر موجودگی (absence of war) کی جاتی ہے۔ مگر یہ تعریف ادھوری ہے۔ صحیح بات یہ ہے کہ امن ایک طریقہ کار ہے۔ اور طریقہ کار کے اعتبار سے امن کو بہر حال جنگ اور تشدد پر فوقیت حاصل ہے۔ چنانچہ صحیح البخاری میں ایک حدیث آتی ہے جس کے الفاظ یہ ہیں : ان الله يعطى علی الرفق مالا يعطى على العنف ۔ (اللہ نرمی پر وہ چیز دیتا ہے جو وہ سختی پر نہیں دیتا) پوری انسانی تاریخ اس قول رسول کی صداقت کی تصدیق کرتی ہے۔ تاریخ کی تمام بڑی بڑی کامیابیاں امن کے ذریعہ حاصل ہوئی ہیں۔ جنگ کے ذریعہ کوئی حقیقی کامیابی کبھی کسی کو نہیں ملی۔ امن کا ایک طاقت ہونا اسلام کی پوری تاریخ سے ثابت ہوتا ہے۔ دورِ اول میں سوا لاکھ صحابہ کا جو قیمتی گروہ بنا تھا وہ سب پر امن جد و جہد کے ذریعہ بنا تھا۔ جن لوگوں کو اصحاب رسول کہا جاتا ہے وہ چار قسم کے لوگ تھے۔ مہاجرین، انصار، طلقاء اور وافدین۔

مہاجرین وہ ہیں جو مکہ کی تیرہ سالہ مدت میں اسلام لائے، جب کہ اس پوری مدت میں کبھی جنگ نہیں ہوئی۔ انصار وہ لوگ ہیں جو مدینہ کے قبائل سے تعلق رکھتے تھے۔ جیسا کہ معلوم ہے، مدینہ پر کبھی فوج کشی نہیں کی گئی۔ طلقاء ان مسلمانوں کو کہا جاتا ہے جو فتح مکہ کے بعد مکہ میں اسلام لائے۔ یہ لوگ بھی جنگ کے بغیر اسلام میں داخل ہوئے۔ کیوں کہ فتح مکہ کے وقت اور نہ اس کے بعد وہاں کوئی جنگی طاقت استعمال کی گئی۔ اس کے بعد وافدین کا دور ہے۔ ہجرت کے آخری سالوں میں عرب کے قبائل سے کثرت سے وفود مدینہ آئے اور انہوں نے اسلام قبول کر لیا۔

یہ وافدین بھی جنگ کے ذریعہ نہیں بلکہ پر امن تبلیغ کے ذریعہ اسلام میں داخل ہوئے تھے۔ یہی معاملہ اسلام کی تاریخ میں بار بار پیش آتا رہا ہے۔ مثال کے طور پر تیرہویں صدی عیسوی میں تاتاری سمرقند سے لے کر حلب تک مسلم دنیا پر قابض ہو گئے۔

‹ Previous page Next page › Contents of October 2001 All issues

Printed page