Al-Risala · October 2001 · page 21

میرٹھ کا سفر

الرسالہ، اکتوبر ۲۰۰۱، صفحہ ۲۱

اس وقت وہ اتنا زور اور تھے کہ ان کے مقابلہ میں جنگ کا کوئی سوال نہ تھا مگر اسلام کی پر امن دعوتی طاقت ظاہر ہوئی اور اس نے بیشتر تاتاریوں کو اسلام میں داخل کر دیا۔ مسجد کے اس جلسہ میں مولانا محمد عرفان قاسمی نے بھی تقریر کی۔ ان کی تقریر کا خلاصہ انہی کے الفاظ میں یہاں نقل کیا جاتا ہے: "یہ ہماری خوش قسمتی ہے کہ ہمارے درمیان داعی الی اللہ مولانا وحید الدین خاں موجود ہیں۔ آپ حلقہ الرسالہ کی دعوت پر یہاں آئے ہیں۔ اس موقع پر مناسب معلوم ہوتا ہے کہ یہ بتایا جائے کہ الرسالہ کا مشن کیا ہے۔ الرسالہ فکر کی کئی تعریفیں کی جاسکتی ہیں۔ مثلاً کہا جاسکتا ہے کہ الرسالہ حقیقت پسندی کی تعلیم دیتا ہے۔ یا لوگوں کو باشعور بناتا ہے یا اللہ کا پیغام اس کے بندوں تک پہنچاتا ہے۔ لیکن میرے نزدیک فکر الرسالہ کی صحیح تعریف یہ ہے کہ الرسالہ فکر نام ہے مسائل انسانی کے قرآنی حل کا۔ یعنی انسانیت کو جو مسائل درپیش ہیں ان کا قرآنی حل کیا ہے وہ الرسالہ میں بتایا جاتا ہے۔ میرے ذہن میں شروع ہی سے ایک سوال تھا کہ قرآن تمام مسائل کا حل ہے لیکن اس کے باوجود مسلم قوم سب سے زیادہ مسائل سے دوچار ہے۔ تو ایسا کیوں ہے۔ میں نے اس نقطۂ نظر سے الرسالہ کا مطالعہ کیا تو میں نے پایا کہ الرسالہ تمام مسائل میں قابل فہم قرآنی رہنمائی دیتا ہے۔ میں تقریباً میں سال سے الرسالہ کا مطالعہ کر رہا ہوں۔ ان میں سالوں میں تقریباً ۱۵ سال میں نے سخت تنقیدی انداز میں اس کا مطالعہ کیا۔ میں سوچتا تھا کہ اگر مجھے کوئی بات قرآن و حدیث کے خلاف نظر آئی تو میں الرسالہ کو فوراً چھوڑ دوں گا۔ لیکن اس دوران سچائی مجھ پر ظاہر ہو گئی۔ میں نے دیکھا کہ مولانا صاحب جو کچھ کہتے ہیں وہ صرف قرآن و حدیث کی بات کہتے ہیں۔ قرآن و حدیث سے ہٹ کر وہ کچھ بھی نہیں کہتے۔ "

مسجد میں تقریر کے بعد سوال و جواب کا دور شروع ہوا۔ ایک سوال یہ تھا کہ دستوری طور پر ہمارے جو حقوق ہیں حکومت اس پر ایمانداری سے عمل نہیں کر رہی ہے

‹ Previous page Next page › Contents of October 2001 All issues

Printed page