Al-Risala · October 2001 · page 22

میرٹھ کا سفر

الرسالہ، اکتوبر ۲۰۰۱، صفحہ ۲۲

بلکہ اس کے قول و عمل میں تضاد ہے، ہم کو کیا کرنا چاہئے۔

میں نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ کسی گروہ کو اس کا حق نہ دستور کے ذریعہ ملتا ہے، اور نہ کسی حکومت کے ذریعہ۔ اس معاملہ میں اصل چیز داخلی اہلیت ہے۔ اگر اس گروہ کے اندر اہلیت ہے تو اس کو اس کا واقعی حق مل کر رہے گا۔ اور اگر اہلیت نہیں ہے تو کوئی بھی دوسری چیز اس کے کام آنے والی نہیں۔

ایک سوال، مسلم مسائل کے متعلق تھا۔ کہا گیا کہ انتظامیہ اور پولیس اپنے فرائض متعصبانہ انداز سے انجام دیتی ہے۔ حتیٰ کہ تشدد تک کیا جاتا ہے۔ میں نے کہا کہ مجھے اس قسم کے نظریہ سے اتفاق نہیں۔ یہ سب اخباری باتیں ہیں۔ میرا یقین قرآن کی اس آیت پر ہے جس میں کہا گیا ہے کہ تم کو جو بھی مصیبت آتی ہے وہ تمہارے اپنے ہی عمل کا نتیجہ ہوتی ہے (الشوریٰ ۳۰) اس آیت کے مطابق، ہر مصیبت کا اصل سبب خود آدمی کے اندر ہوتا ہے نہ کہ اس کے باہر۔ ایسی حالت میں ہمارا اکام احتساب خویش ہونا چاہئے نہ کہ احتساب غیر۔

ایک اور سوال یہ تھا کہ آپ جو صبر واعراض کی تلقین کرتے ہیں آخر کار یہ کب تک۔ میں نے کہا کہ یہ سوال ایسا ہی ہے جیسے کوئی شخص یہ کہے کہ خدا کی عبادت کب تک۔ صبر کوئی بزدلی نہیں، وہ ایک عبادت ہے، بلکہ وہ افضل ترین عبادت ہے (الزمر ۱۰)۔ ایسی حالت میں آپ کو چاہئے کہ صبر کے مواقع کو بشارت کے روپ میں لیں، اس کو اللہ کی طرف سے بھیجا ہوا ایک تحفہ سمجھیں۔ حقیقت یہ ہے کہ صبر ایک ایجابی عمل ہے نہ کہ کوئی سلبی عمل۔ وہ ساری عمر جاری رہتا ہے۔

ایک سوال یہ تھا کہ انفرادی اور اجتماعی دعا کے متعلق آپ کی کیا رائے ہے۔ لاؤڈا سپیکر پر دعا کرنا کیسا ہے۔

میں نے کہا کہ دعا خدا اور بندے کے درمیان کا ایک معاملہ ہے، اس لئے اصلاً دعا

‹ Previous page Next page › Contents of October 2001 All issues

Printed page