میرٹھ کا سفر
الرسالہ، اکتوبر ۲۰۰۱، صفحہ ۲۳
کو تنہائی اور خاموشی کی صورت میں ہونا چاہئے۔ لیکن ہر عموم میں استثناء ہوتا ہے۔ اس لئے کسی ضرورت یا مصلحت کے تحت جہری دعا کی جائے تو اس میں کوئی حرج نہیں۔ اس مسئلہ کی تفصیل تفسیر روح المعانی میں سورہ الاعراف آیت ۵۵ کے تحت دیکھی جاسکتی ہے۔ ایک سوال یہ تھا کہ آپ کس عالم کی تفسیر سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں اور کس تفسیر کو زیادہ بہتر تصور کرتے ہیں۔ میں نے کہا کہ قرآن کی تفسیر میں کثرت سے لکھی گئی ہیں۔ ہر تفسیر کی کوئی نہ کوئی انفرادی خصوصیت ہے اور ہر ایک سے اپنے ذوق کے مطابق استفادہ کیا جاسکتا ہے۔ میں خود ہر تفسیر کو دیکھتا ہوں۔ تاہم القرطبی کی الجامع لاحکام القرآن زیادہ تر میرے مطالعہ میں رہتی ہے۔ اس تفسیر کی خصوصیت یہ ہے کہ اس میں تفسیری روایات اور سلف کے اقوال یکجا مل جاتے ہیں۔ اس سے آیات کا مطالعہ کرنے میں آسانی ہوتی ہے۔
ایک سوال موجودہ صورتِ حال کے تحت مسلمانوں کی ملی اور سیاسی قیادت کے بارے میں تھا۔ مسلمانوں میں قیادت کی قحط کیوں ہے۔ میں نے کہا کہ موجودہ زمانہ کے مسلمان جس مسئلہ سے دوچار ہیں وہ فقدان قیادت نہیں ہے بلکہ فقدانِ قبولیت قیادت ہے۔ قوم کی قبولیت سے کوئی شخص قائد بنتا ہے۔ جب قوم میں قبولیت کا مزاج ہی نہ ہو تو کوئی قائد کس طرح قائد بنے گا۔
میرٹھ میں شام کے وقت جناب سید محمود علی صاحب (شاستری نگر) کے مکان پر ایک پریس کانفرنس ہوئی جس میں ہندی اخباروں کے نمائندے شریک ہوئے۔ پریس کانفرنس میں بہت سے سوالات کئے گئے جن کا میں نے جواب دیا۔ ایک سوال مسلمانوں کے دینی مدارس کے بارے میں تھا۔ میں نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ میں نے دینی مدارس پر اپنے میگزین ”الرسالہ“ (ستمبر ۲۰۰۰) میں تفصیل سے لکھا ہے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ یہ مدارس ملک کے لئے ایک قیمتی سرمایہ ہیں۔ یہ مدارس گویا اچھے شہری تیار کرتے ہیں۔
‹ Previous page Next page › Contents of October 2001 All issues