Al-Risala · October 2001 · page 24

میرٹھ کا سفر

الرسالہ، اکتوبر ۲۰۰۱، صفحہ ۲۴

بابری مسجد کے بارے میں ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے میں نے کہا کہ بابری مسجد کا مسئلہ ختم نہیں ہوا۔ وہ ابھی تک عدالت میں موجود ہے، اور جو مسئلہ عدالت میں زیر سماعت ہو اس کو عدالت ہی ختم کر سکتی ہے۔ اس لئے لوگوں کو چاہئے کہ وہ اعلان کریں کہ عدالت جو فیصلہ کرے گی وہ ہم کو بلا شرط منظور ہوگا۔ اس معاملے میں عدالت کو نظر انداز کرنا کوئی سادہ بات نہیں۔ یہ ملک میں مزاج کی حوصلہ افزائی کرنے کے ہم معنی ہے۔ جو بلاشبہ تمام برائیوں میں سب سے زیادہ بڑی برائی ہے۔

ایک سوال کے جواب میں میں نے کہا کہ ڈیمو کریسی کے نظام میں ہر فریق برابر کا حق رکھتا ہے۔ خواہ وہ اقلیت میں ہو یا اکثریت میں۔ ڈیمو کریسی اور ڈکٹیٹر شپ میں یہی فرق ہے۔ ہمارے ملک میں آزادی کے بعد ڈیمو کریسی کا نظام قائم کیا گیا ہے۔ ایسی حالت میں کسی کو یہ حق نہیں کہ وہ تفریق و امتیاز کی بات کرے ۔ اس قسم کی بات کسی ایک گروہ کے خلاف نہیں ہے بلکہ وہ پورے سسٹم کو برباد کر دینے والی ہے۔ اگر سسٹم برباد ہوتا ہے تو اس کا نقصان ہر ایک کو پہنچے گا۔

سٹی چینل ٹی وی (ہل چل) نے ایک انٹرویو ریکارڈ کیا۔ انہوں نے مختلف سوالات کئے ۔ ایک سوال یہ تھا کہ آپ اسلامی مرکز کے صدر ہیں۔ یہ بتائیے کہ ایسا کیوں ہے کہ مسلمان موجودہ زمانہ میں اسلامی تعلیمات سے ہٹ گئے ہیں۔

میں نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ یہ بات عمومی طور پر درست نہیں۔ یہ صحیح ہے کہ کچھ مسلمان اسلامی تعلیمات سے ہٹ گئے ہیں مگر اس کے ساتھ یہ بھی درست ہے کہ بہت سے مسلمان اسلامی تعلیمات پر قائم ہیں۔ اس کی ایک مثال تبلیغی جماعت میں دیکھی جا سکتی ہے۔ اس کے علاوہ علماء اور مدارسن بھی اس کا ایک نمونہ ہیں۔ پھر میں نے کہا کہ عروج وزوال کے واقعات ہر قوم میں ہوتے رہتے ہیں۔ اس لئے اسلام میں تجدید واحیام کا عمل ہمیشہ جاری رہتا ہے اور خدا کے فضل سے آج بھی جاری ہے۔ اگر ایسا نہ ہو تو

‹ Previous page Next page › Contents of October 2001 All issues

Printed page