میرٹھ کا سفر
الرسالہ، اکتوبر ۲۰۰۱، صفحہ ۲۵
مصصلحین کو اصلاحی عمل کا ثواب کیسے ملے۔
مسجد الفاروق میں ظہر کی نماز پڑھی۔ نماز کے بعد حلقہ الرسالہ کے لوگوں نے مجھ سے کہا کہ دعوتی کام کے سلسلے میں آپ کا مشورہ کیا ہے۔ میں نے اُن سے کہا کہ صبر دامی کی طاقت ہے۔ حدیث میں آیا ہے کہ الصبر معول المومن (صبر مومن کا ذریعہ ء اعتماد ہے) میں سمجھتا ہوں کہ یہ ایک ایسی جامع نصیحت ہے کہ اگر اس کو کوئی پکڑ لے تو اس کو دوسری نصیحت کی ضرورت نہیں۔ صبر بلاشبہ تمام کامیابیوں کی کنجی ہے۔ محمد شہزاد علی خاں صاحب کے یہاں دو پہر کے کھانے کا انتظام تھا۔ کھانے کے بعد ایک سوال کیا گیا کہ آپ نے لوگوں کو کیا پرو گرام دیا ہے۔ میں نے کہا کہ پروگرام دیا نہیں جاتا بلکہ خود بنایا جاتا ہے۔ پرو گرام کا سر چشمہ دل کا طوفان ہے۔ لفظوں میں کوئی پروگرام نہیں ہوتا۔ آپ کے دل میں اللہ کا ڈر ہونا اور دوسروں کے لئے خیر خواہی کا جذبہ ہونا، یہی پرو گرام بنانا ہے۔ آپ پرو گرام مانگتے نہیں بلکہ خود پرو وگرام ساز بنئے۔ جناب محمد راشد صاحب انصاری (۳۰ سال) نے ایک عمدہ بات کہی۔ انہوں نے کہا کہ آج کل کے لوگوں کا حال یہ ہے کہ وہ خبروں میں جیتے ہیں، وہ حقیقت میں نہیں جیتے ۔ ان کا مطلب یہ تھا کہ لوگ جو کچھ اخباروں میں پڑھتے ہیں اسی سے وہ رائے بنا لیتے ہیں۔ میں نے کہا کہ اخباری رپورٹ میں بیک وقت دو خامیاں ہوتی ہیں، ایک یہ کہ ہر اخبار انتخابی رپورٹنگ کرتا ہے۔ یعنی کچھ خبروں کو چھاپنا اور کچھ کو چھوڑ دینا۔ مزید یہ کہ اس کی یہ انتخابی رپورٹنگ اس صحافتی اصول پر مبنی ہوتی ہے کہ اچھی خبر کوئی خبر نہیں Good news is no news ہے۔ اس صحافتی اصول کی بنا پر ہر اخبار کی رپورٹنگ نہ صرف جزیٔ ہوتی ہے بلکہ وہ ناقص بھی ہوتی ہے۔ یعنی وہ قوم یا فرقہ کے بارہ میں بری خبروں کو چھاپتا ہے اور اچھی خبروں کو نہیں چھاپتا۔
مزید یہ کہ اکثر اخبار خبروں کو گھٹا کر یا بڑھا کر چھاپتے ہیں۔ اس بنا پر کسی فرد یا
‹ Previous page Next page › Contents of October 2001 All issues