میرٹھ کا سفر
الرسالہ، اکتوبر ۲۰۰۱، صفحہ ۲۶
کسی جماعت کی تصویر جو اخبارات میں آتی ہے وہ ناقص ہوتی ہے۔
شام کو محمد شہزاد علی صاحب کے گھر پر خواتین اکٹھا ہوئیں۔ ان کو نصیحت کرتے ہوئے میں نے چند باتیں کہیں۔ ایک بات یہ تھی کہ آپ لوگ بے شکایت جینا سیکھئے ۔ اس دنیا میں عورت اور مرد دونوں کو شکایتوں کے درمیان جینا پڑتا ہے ۔ ہر روز کوئی نہ کوئی واقعہ ایسا پیش آتا ہے جو آپ کے دل میں دوسروں کے خلاف شکایت کا جذبہ پیدا کر دے۔ یہی اس دنیا میں کسی عورت یا مرد کا سب سے بڑا امتحان ہے۔ اس دنیا میں کامیاب صرف وہ شخص ہے جو شکایتوں کے طوفان میں اپنے دل کو شکایتوں سے خالی رکھے۔ جو شکایت کے باوجود بے شکایت بن کر رہ سکے۔
بچوں کی تربیت کے سلسلے میں میں نے کہا کہ اصل تربیت یہ نہیں ہے کہ آپ ایک مقرر وقت پر جمع کر کے بچوں کو دین کے مسائل بتائیں۔ بچوں کی تربیت اس قسم کے وقتی وعظ سے نہیں ہوتی بلکہ تربیت کا اصل ذریعہ گھر کا ماحول ہے۔ اگر آپ کے گھر میں اخلاق اور انسانیت کا ماحول ہو۔ آپ کے گھر میں کسی کی غیبت اور شکایت نہ کی جاتی ہو، اور آپ کے گھر میں دوسروں کو عزت دینے کا ماحول ہو ، خواہ وہ اپنا ہو یا غیر تو یہ ماحول آپ کے گھر کو ایک زندہ تربیت گاہ بنا دے گا۔ اس کے بعد کسی رسمی وعظ کی ضرورت نہ ہوگی۔ الرساله ستمبر ۲۰۰۰ (دینی مدارس) پڑھنے کے بعد مولانا محمد عرفان قاسمی نے اپنا جو تاثر بیان کیا وہ انہی کے الفاظ میں یہ تھا: میں نے الرسالہ کے اس شمارہ کو بہت غور سے پڑھا۔ سطور کو بھی پڑھا اور بین السطور کو بھی۔ سطور کے اندر آپ نے دینی مدارس کی افادیت کو انتہائی طاقتور دلائل کے ذریعہ واضح کیا ہے۔ اور بین السطور میں آپ کی ایک نئی شخصیت نظر آتی ہے۔ وہ یہ کہ آپ نے اپنے آپ کو قافلہ مدارس کا ایک فرد شمار کیا ہے۔ ” دینی مدارس “ کو پڑھ کر مجھے یہ احساس ہوا کہ آپ یہ چاہتے ہیں کہ ہندوستان کے اندر جو لوگ دین کی خدمت کر رہے ہیں وہ اپنے اپنے دائرہ کے اندر متحرک
‹ Previous page Next page › Contents of October 2001 All issues