میرٹھ کا سفر
الرسالہ، اکتوبر ۲۰۰۱، صفحہ ۲۷
ہو جائیں۔ دوسرا احساس یہ ہوا کہ جو تعلیم آپ دوسروں کو رسالہ میں دیتے ہیں خود اس کو مبالغہ کی حد تک پکڑے ہوئے ہیں۔ مثلاً ایک مضمون میں آپ نے لکھا تھا کہ کسی شخص کے اندر کوئی خوبی ہو تو اس خوبی کا اعتراف کرنا چاہیے۔ کیوں کہ یہ خدا کی نعمت کا اعتراف ہے۔ دینی مدارس کے اندر میں نے دیکھا کہ آپ نے ان حضرات کی شخصیت کا کھل کر اعتراف کیا ہے جن سے آپ کو کچھ نظریاتی اختلاف تھا۔ "
الرسالہ کے ایک قاری نے کچھ لوگوں کا یہ قول دہرایا کہ آپ نے الرسالہ ستمبر ۲۰۰۰ میں لکھا ہے کہ آپ نے ۱۹۶۶ میں مولانا عبد الباری ندوی سے بیعت کر لی۔ لوگ یہ جاننا چاہتے ہیں کہ بیعت کا اسلام میں حکم کیا ہے۔ آپ کی کتاب تجدید دین سے تو یہ ذہن بنتا تھا کہ بیعت وغیرہ اسلام میں اضافہ ہے۔ لیکن دینی مدارس پڑھنے کے بعد جب آپ کا یہ اعتراف دیکھا تو لوگ متحیر ہو گئے۔
میں نے کہا کہ بیعت کے بارے میں تاریخی طور پر یہ ثابت ہے کہ صرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے زمانہ میں بیعت ایمان لی۔ آپ کے بعد خلفاء راشدین اور صحابہ کرام میں اس قسم کی بیعت کا کوئی ثبوت نہیں۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ صحابہ نے رسول اللہ کی بیعت کے معاملہ کو پیغمبر کا خصوصی معاملہ سمجھا۔ خلفاء راشدین سے جس بیعت کا ثبوت ملتا ہے وہ صرف بیعت سیاسی ہے۔ دوسرے لفظوں میں بیعت سیاسی کو ووٹنگ کہہ سکتے ہیں۔ یہ کہنا شاید غلط نہ ہو گا کہ موجودہ زمانہ میں ووٹنگ کا طریقہ رائج ہونے کے بعد بیعت سیاسی کی کوئی ضرورت نہیں۔
اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ بیعت کا موجودہ طریقہ خلافت عباسی کے زمانہ میں اسلام کے آغاز کے تقریباً دو سو سال بعد رائج ہوا۔ اس اعتبار سے بیعت کے مروجہ طریقہ کو اسلامی شریعت کا کوئی مخصوص جزو نہیں کہا جا سکتا۔ اس مروجہ طریقہ بیعت کو اگر بدعت کہا جائے تو یہ ایک سخت بات ہوگی۔ کیوں کہ بہت سے صالحین امت کا نام اس میں
‹ Previous page Next page › Contents of October 2001 All issues