Al-Risala · October 2001 · page 28

میرٹھ کا سفر

الرسالہ، اکتوبر ۲۰۰۱، صفحہ ۲۸

شامل ہے۔ اس لیے میں بطریقِ اہون یہ کہتا ہوں کہ یہ ہمارے بزرگوں کی ایک اجتہادی خطا تھی۔ اور جیسا کہ حدیث سے ثابت ہے، اجتہادی خطا پر بھی مومن کو ثواب ملتا ہے۔ تاہم بیعت کی ایک اور صورت ہے جس کو میں درست مانتا ہوں۔ میرے الفاظ میں یہ بیعت فطری ہے۔ اس کو سمجھنے کے لیے ایک مثال لیجئے ۔ ایک سفر کے دوران جانبہ کے مقام پر حضرت ابو عبیدہ خلیفہ ثانی حضرت عمر بن الخطاب کے استقبال کے لیے آئے۔ دونوں ایک دوسرے کے بہت زیادہ قدر دان تھے۔ چنانچہ دونوں نے آگے بڑھ کر یہ چاہا کہ وہ ایک دوسرے کے ہاتھ کو چوم لیں۔ (البداية والنهاية ، الجزء السابع صفحه ۵۵) صحابی کی طرف سے تقبیل ید کا یہ معاملہ ایک فطری معاملہ تھا نہ کہ شرعی معاملہ۔ ایساہی معاملہ میرے نزدیک اس چیز کا ہے جس کو میں بیعت کہتا ہوں۔ یہ محبت اور اعتماد کا ایک غیر معمولی اظہار ہے۔ شرعی معنوں میں وہ نہ تو مقدس ہے اور نہ ہی اس کا یہ مطلب ہے کہ جب آپ نے ایک بزرگ سے بیعت کر لی تو وہ آپ کی دنیا اور آخرت دونوں کی کامیابی کی ضامن بن گئی۔ خلاصہ یہ کہ میں فطری بیعت کا قائل ہوں، مگر غلو آمیز بیعت کا نہیں۔

میں نے ١٩٦٦ میں مولانا عبد الباری ندوی سے جو بیعت کی تھی وہ اسی بیعت فطری کے معنی میں تھی۔ مولانا مرحوم کو میں نے دینی شخصیتوں میں ایک منفرد شخصیت کے طور پر دریافت کیا۔ اس دریافت کا نتیجہ علامتی طور پر بیعت کی صورت میں ظاہر ہوا۔ میرٹھ کا شہر دہلی سے صرف ۷۰ کلومیٹر کے فاصلہ پر واقع ہے۔ اس کو راجدھانی کا نواحی شہر کہا جا سکتا ہے۔ اس شہر کا راجدھانی کے کواح میں واقع ہونا اس کے لئے ایک قیمتی امکان ہے۔ ایسا شہر ہمیشہ بہت ترقی کرتا ہے۔ اس کی مثال دوسرے نواحی شہروں میں دیکھی جا سکتی ہے۔ مثلاً غازی آباد، فرید آباد، گڑگاؤں، پانی پت، کرنال، وغیرہ۔ ان شہروں نے اپنی نواحی پوزیشن سے فائدہ اٹھا کر غیر معمولی ترقی کی ہے۔ یہ

‹ Previous page Next page › Contents of October 2001 All issues

Printed page