میرٹھ کا سفر
الرسالہ، اکتوبر ۲۰۰۱، صفحہ ۲۹
ترقی اتنی نمایاں ہے کہ ان شہروں سے گزرنے والا آدمی پہلی نظر میں اس کو محسوس کر لیتا ہے۔ میرٹھ بھی ملک کی راجدھانی کے نواح میں واقع ہے۔ مگر حیرت انگیز طور پر اس کا معاملہ مذکورہ شہروں سے مختلف ہے۔
۱۰ستمبر کو جب کہ میں میرٹھ کی سڑکوں اور اس کے محلوں سے بار بار گزرا تو مجھے وہاں شہری پچھڑے پن کے مناظر تو دکھائی دئے مگر جدید معنوں میں شہری ترقی کے مناظر میں وہاں نہ دیکھ سکا۔ اس فرق کا سبب کیا ہے۔ میرے نزدیک اس کا سبب خارج میں نہیں ہے بلکہ داخل میں ہے۔ میرٹھ کے لوگ اپنی جس تاریخ پر فخر کرتے ہیں، یہی تاریخ ان کی پسماندگی کا اصل سبب ہے۔
جیسا کہ معلوم ہے، ۱۸۵۷ء کی مسلح جنگ میرٹھ سے شروع ہوئی۔ یہ جنگ ناکام ہو گئی۔ مگر ہمارے مقررین اور مھررین نے اس مسلح کارروائی کو اتنا زیادہ گلوریفائی کیا کہ وہ میرٹھ والوں کے ذہن میں ایک پر فخریاد کے طور پر باقی رہ گئی۔ حتی کہ وہ ان کی قومی روایات میں شامل ہو گئی۔ وہ نسل در نسل انہی پر فخر روایات میں جیتے رہے۔ جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ میرٹھ غالباً ہندوستان کا واحد شہر بن گیا جہاں پچھلے ڈیڑھ سو سال کے درمیان چھوٹے یا بڑے تشدد کے واقعات برابر جاری رہے۔ "چھری اور قینچی" میرٹھ کے کلچر کی ایک علامت بن گئی۔
یہی تشد دانه مزاج میرٹھ والوں کی پسماندگی کی سب سے بڑی وجہ ہے۔ اسباب کی اس دنیا میں ترقی ہمیشہ امن کی طاقت سے ہوتی ہے نہ کہ تشدد کی طاقت سے۔ میرٹھ کے لوگ اپنی روایات کے نتیجہ میں اس حقیقت سے غافل رہے۔ وہ تشدد کی بنیاد پر اپنی زندگی کو کامیاب بنانے کا خواب دیکھتے رہے۔ اس قسم کا خواب حقائق کی اس دنیا میں کبھی واقعہ بننے والا نہیں، نہ میرٹھ والوں کے حق میں اور نہ غیر میرٹھ والوں کے حق میں۔ آپ کسی معلوماتی کتاب میں میرٹھ کے بارے میں پڑھیں تو اس میں آپ کو اس
‹ Previous page Next page › Contents of October 2001 All issues