Al-Risala · October 2001 · page 31

میرٹھ کا سفر

الرسالہ، اکتوبر ۲۰۰۱، صفحہ ۳۱

میں نے کہا کہ قرآن دنیا کی سب سے بڑی دعوتی کتاب ہے۔ آپ سارا قرآن پڑھ جایئے مگر اس میں کہیں بھی وہ چیز نہیں ملے گی جس کو آج کل پروگرام کہا جاتا ہے۔ قرآن آدمى کے اندر دعوت کا سیلابی جذبہ پیدا کرتا ہے۔ اور اس کے بعد اس کو اپنی فطرت پر اور اپنی عقل پر چھوڑ دیتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ جب آدمی کے اندر واقعی معنوں میں دعوت کا جذبہ بھڑک اٹھے تو اس کے بعد اس کو کسی رسمی قسم کے پروگرام کی ضرورت نہیں۔ یہ بتاتے ہوئے میں نے عرب نوجوانوں سے کہا کہ ہمارا پروگرام، پروگرام ساز انسان بنانا ہے (برنامجنا هو اعداد المبرمجين)۔

میں آپ کو ایک واقعہ سناتا ہوں جو بتاتا ہے کہ آدمی کے اندر اگر دعوت کی تڑپ پیدا ہو جائے تو وہ کس طرح اپنے آپ میں ایک پروگرام ساز انسان بن جاتا ہے۔ میں نے کہا کہ مظفر نگر (یوپی) کے ایک قصبہ کا واقعہ ہے۔ وہاں ایک مسلم خاندان کے یہاں ایک ہرین عورت صفائی کے کام کے لئے روزانہ آتی تھی۔ گھر کی ایک بچی سے اس ہرین عورت کی دوستی ہو گئی۔ یہ ہرین عورت جب وہاں صفائی کے کام کے لئے آتی تو وہ سب سے پہلے مذکورہ بچی سے ملتی۔ اس طرح دونوں ایک دوسرے سے بہت زیادہ مانوس ہو گئے۔

ایک دن ایسا ہوا کہ گھر کے اندر جنت اور جہنم کا تذکرہ ہوا۔ لڑکی کے باپ نے کہا کہ جنت میں داخلہ کے لئے ایمان ضروری ہے۔ جو شخص مومن اور موحد ہو وہی موت کے بعد جنت میں جائے گا۔ اور جو لوگ مشرک ہیں، جو غیر اللہ کی پرستش کرتے ہیں وہ جنت میں نہیں جائیں گے۔ بچی کے دماغ میں یہ بات بیٹھ گئی۔ وہ سوچنے لگی کہ میں تو مومن اور موحد ہوں اس لئے میں تو جنت میں جاؤں گی۔ مگر ہر یجن عورت تو شرک میں مبتلا ہے، وہ کس طرح جنت میں جائے گی۔

اس کے بعد یہ ہوا کہ اگلے دن جب مذکورہ ہرین عورت صفائی کے کام کے لئے

‹ Previous page Next page › Contents of October 2001 All issues

Printed page