Al-Risala · October 2001 · page 32

میرٹھ کا سفر

الرسالہ، اکتوبر ۲۰۰۱، صفحہ ۳۲

آئی تو اس نے دیکھا کہ اس کی دوست بچی گھر میں ایک کنارے کھڑی ہوئی بری طرح رد رہی ہے۔ عورت اس کو دیکھ کر گھبرا گئی۔ اس نے پوچھا کہ تم کو کیا تکلیف ہے۔ تم کیوں اس طرح رو رہی ہو۔ بہت پوچھنے کے بعد بچی نے کہا کہ میں مومن ہوں اس لئے میں جنت میں جاؤں گی اور تم مشرک ہو اس لئے تم جنت میں نہیں جاؤ گی۔ اس طرح موت کے بعد کی زندگی میں میرا اور تمہارا ساتھ چھوٹ جائے گا۔ یہ سن کر ہر بچن عورت نے کہا کہ تم مت روؤ۔ میں آج سے اسلام قبول کرتی ہوں تاکہ ہم دونوں ایک ساتھ جنت میں رہیں۔

یہ واقعہ بتاتا ہے کہ اگر کسی کے دل میں دعوت کی آگ لگ جائے تو اس کے دل کی تپش خود ہی اس کو مکمل پروگرام بتا دیتی ہے، خواہ دامی ایک عام انسان ہو، اور خواہ وہ ایک چھوٹا بچہ ہی کیوں نہ ہو۔

میرٹھ کے جلسے میں کچھ تعلیم یافتہ ہندو بھی شریک تھے۔ بعد کو ایک ہندو نے کہا کہ آپ نے اپنی تقریر میں بہت اچھی باتیں کہیں۔ مگر آپ کی ایک بات ہم کو پسند نہیں آئی۔ وہ یہ کہ آپ کی بعض باتوں سے ایسا محسوس ہوا جیسے کہ آپ اسلام کو سب سے اچھا مذہب سمجھتے ہیں۔ آپ کے نزدیک اسلام دھرم سے بہتر کوئی اور دھرم نہیں۔ میں نے کہا کہ مذہب کا معاملہ ایک ذاتی عقیدہ کا معاملہ ہے۔ مذہب آدمی کو یہ یقین دیتا ہے کہ میں نے سچائی کو پا لیا ہے، اس سچائی کو جس کو لے کر میں اس دنیا میں جی سکوں۔ میں سمجھتا ہوں کہ اس قسم کا یقین ہر آدمی کے لئے ضروری ہے۔ جو آدمی اس یقین سے خالی ہو وہ یا تو اعتماد کی نعمت سے محروم ہو گیا یا وہ حقیقی سچائی سے کم تر کسی چیز کو وہ درجہ دے دے گا جو کہ سچائی کا درجہ ہے۔

میں نے کہا کہ اگر آپ کا عقیدہ اس کے سوا کچھ اور ہو تو مجھے آپ سے کوئی نفرت نہیں ہوگی۔ میں پھر بھی انسان ہونے کے اعتبار سے آپ سے محبت کروں گا۔ البتہ جب

‹ Previous page Next page › Contents of October 2001 All issues

Printed page