Al-Risala · October 2001 · page 33

میرٹھ کا سفر

الرسالہ، اکتوبر ۲۰۰۱، صفحہ ۳۳

ایسا ہو کہ میرا یقین کسی اور سچائی پر ہو اور آپ کا یقین کسی اور چیز پر تو ایسی حالت میں میں یہ کہوں گا کہ آئیے ہم دونوں اس موضوع پر سنجیدہ اور کھلا ڈلا بحث کریں۔ تا کہ ہم حقیقی سچائی تک پہنچ سکیں۔ کیوں کہ یہ یقین جتنا ضروری ہے کہ میں نے سچائی کو پالیا ہے، اتنا ہی بلکہ اس سے زیادہ ضروری یہ ہے کہ آدمی کا یقین واقعی سچائی پر بنا ہو نہ کہ کسی اور چیز پر۔ انہوں نے کہا کہ حال میں نیویارک میں مختلف مذاہب کے لوگوں کی جو میٹنگ ہوئ ہے اس میں تو یہ اعلان کیا گیا ہے:

It emphatically stated that all religions are equal. میں نے کہا کہ اگر آپ یہ کہیں کہ تمام مذاہب یکساں طور پر قابل احترام ہیں تو میں کہوں گا کہ ہاں، عزت اور احترام کے اعتبار سے ایک مذہب اور دوسرے مذہب کے درمیان کوئی فرق نہیں۔ لیکن اگر آپ یہ کہیں کہ تمام مذاہب یکساں طور پر سچے ہیں تو میں کہوں گا کہ نہیں۔ اس قسم کی بات خود مذہب کی نفی (negation) ہے۔ مذہب کیا ہے؟ مذہب سچائی کا نمائندہ ہے۔ اور سچائی اپنی حقیقت کے اعتبار سے وحدت ہے، سچائی تعدد کا تحمل نہیں کر سکتی۔ سچائی اگر متعدد ہو تو وہ سچائی ہی نہ ہوگی۔ سچائی کی اہمیت یہ ہے کہ وہ دنیا میں جینے کے لئے آدمی کا اعتقادی سہارا ہے۔ سچائی وہ ہے جو آدمی کو اس قابل بنائے کہ وہ پورے یقین کے ساتھ دنیا کے ہنگاموں میں رہ سکے۔ اس قسم کا۔ مستحکم اعتماد صرف اس یقین کی بنیاد پر پیدا ہوتا ہے کہ میں نے جس چیز کو پایا ہے وہ کامل سچائی ہے۔ جس مذہب کی صداقت پر آدمی کو کامل یقین نہ ہو وہ ایک سیاسی مذہب یا مصلحت پرستانہ مذہب تو ہو سکتا ہے مگر حقیقی معنوں میں اس کو مذہب کی حیثیت نہیں دی جاسکتی۔ اس قسم کا عقیدہ صرف منافقانہ کردار پیدا کرتا ہے نہ کہ مخلصانہ کردار۔ میرٹھ میں کچھ لوگوں نے وہاں حلقہ الرسالہ کے نام سے ایک فورم بنایا ہے جس کے تحت وہ لوگ دعوتی کام کر رہے ہیں۔ اس طرح کے حلقے ملک بھر میں جگہ جگہ قائم

‹ Previous page Next page › Contents of October 2001 All issues

Printed page