میرٹھ کا سفر
الرسالہ، اکتوبر ۲۰۰۱، صفحہ ۳۴
ہیں۔ اس معاملہ میں مجھے ناگپور کی مثال پسند آئی۔
ناگپور میں الرسالہ کے قارئین نے اسی قسم کا ایک حلقہ بنایا ہے۔ مگر اس کا نام انہوں نے حلقہ الرسالہ کے بجائے پازیٹیو تھنکر س فورم (Positive Thinkers' Forum) رکھا ہے۔ یہ نام نہایت با معنی ہے اور مجھ کو پسند ہے۔ میری خواہش ہے کہ ہر جگہ الرسالہ کے لوگ اسی نام کو استعمال کریں۔ کثرت استعمال سے انشاء اللہ پازیٹیو تھنکر س فورم ’حلقہ الرسالہ کے لفظ کا بدل بن جائے گا۔
سوویت یونین کے ٹوٹنے سے پہلے جب اشتراکی افکار کا زور تھا تو اس زمانہ میں اس سے متاثر ادیبوں نے جگہ جگہ اپنے حلقے بنائے ۔ یہ لوگ اپنے آپ کو اشتراکیت پسند ادیب نہیں کہتے تھے بلکہ ترقی پسند ادیب (Progressive Writer) کہتے تھے ۔ یہ لفظ زیادہ با معنی نہ تھا۔ وہ صرف قدیم سوچ سے بغاوتم کی نمائندگی کرتا تھا۔ اس لحاظ سے وہ ایک منفی نام تھا۔ اس کے برعکس پازیٹیو تھنکر س فورم پورے معنوں میں ایک مثبت نام ہے۔ وہ ایجابی فکر کی نمائندگی کرتا ہے۔
محمد شہزاد علی خان صاحب نے بتایا کہ کچھ لوگ آپ کے بارے میں یہ کہتے ہیں کہ آپ اکثری سیاسی معاملاتی میں رائے دیتے ہیں جو ٹی وی، اور اخبارات میں آتی رہتی ہے۔ یہ بزرگوں کے طریقہ کے خلاف ہے۔ اگر آپ دینی مشن لے کر چل رہے ہیں تو آپ کو سیاسی معاملات سے الگ رہ کر خالص دین کے دائرہ میں اپنا کام کرنا چاہئے۔ میں نے کہا کہ یہ صرف غلط نہی ہے جو ایک غلط مفروضہ پر قائم ہے۔ وہ یہ کہ عالم اور بزرگ وہ ہے جو سیاست سے دور رہے۔ میں نے کہا کہ اسلام کی تاریخ میں نہ پہلے کبھی ایسا ہوا اور نہ آج ایسا ہے۔ ماضی میں حضرت عائشہ اور حضرت حسین نے وقت کی سیاست میں حصہ لیا۔ امام ابو حنیفہ نے نفس ذکیہ کے سیاسی مشن میں ان کے ساتھ تعاون کیا۔ امام ابن تیمیہ اپنے زمانہ کے سیاسی حکمرانوں کے معاملات میں جرأت مندانہ طور پر اظہار خیال کرتے تھے۔
‹ Previous page Next page › Contents of October 2001 All issues