میرٹھ کا سفر
الرسالہ، اکتوبر ۲۰۰۱، صفحہ ۳۵
ہندوستان میں شاہ ولی اللہ دہلوی ، شاہ عبد العزیز دہلوی ، مولانا محمد قاسم نانوتوی ، شیخ الہند مولانا محمود حسن دیوبندی ، مولانا حسین احمد مدنی ، مولانا ابو الکلام آزاد جیسے بہت سے علماء سیاسی معاملات میں اظہار خیال کرتے رہے ہیں ، حتیٰ کہ ان لوگوں میں سے کئی لوگوں نے سیاسی معاملات میں عملی حصہ لیا۔ حقیقت یہ ہے کہ سیاست انسانی زندگی کا لازمی حصہ ہے۔ کوئی شخص اس سے الگ نہیں رہ سکتا۔
اگر کچھ بزرگ یا دین دار حضرات سیاست سے دور رہیں حتیٰ کہ وہ اخبارات بھی نہ پڑھیں تو یہ ان کا ذاتی ذوق ہے۔ ذاتی ذوق کے اعتبار سے اس میں کچھ حرج نہیں۔ لیکن وہ اگر اس ذاتی ذوق کو اسلام کا معیار قرار دیں اور سیاسی معاملات میں بے غرضانہ طور پر صالح رہنمائی دینے والوں کو بے دین سمجھیں تو یہ اس بات کا ثبوت ہو گا کہ وہ یا تو جہل میں مبتلا ہیں یا انتہا پسندی کا شکار ہیں۔
مولانا محمد عرفان قاسمی نے کہا کہ صحیح حدیث میں آیا ہے کہ من قال لا الہ الا اللہ دخل الجنۃ (البخاری) ان سے یہ سمجھا جاتا ہے کہ کلمہ گو کے لئے جنت ہے۔ اس کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے۔
میں نے کہا کہ میرے مطالعہ کے مطابق ، من قال لا الہ الا اللہ سے مراد من تلفظ لا الہ الا اللہ نہیں ہے۔ یعنی مجرد کلمہ کے الفاظ کی تکرار پر جنت نہیں ہے بلکہ اعتراف حق پر ہے۔ چنانچہ ایک اور روایت میں یہ الفاظ آئے ہیں کہ من عرف أن لا إله الا الله دخل الجنۃ۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ مذکورہ حدیث میں ” قول “ سے مراد قول معرفت ہے۔ گویا جنت معرفت پر ہے نہ کہ مجرد قول پر۔
یہ بات قرآن سے واضح طور پر ثابت ہوتی ہے۔ مثلا سورہ المائدہ کی آیت ۸۳۔ ۸۵ میں یہ ارشاد ہوا ہے کہ ایک گروہ کو اللہ نے جنت دی اور یہ جنت ان کو ان کے قول کے بدلے میں ملی۔ (فَأَثَابَهُمُ الله بما قالوا جنت) مگر یہ قول کیا تھا۔ قرآن کے
‹ Previous page Next page › Contents of October 2001 All issues