میرٹھ کا سفر
الرسالہ، اکتوبر ۲۰۰۱، صفحہ ۳۶
مطابق، یہ ان کے داخلی عرفان حق کا ایک لسانی اظہار تھا (مما عرفوا من الحق) مزید یہ کہ ان کا یہ عرفان اتنا گہرا تھا کہ اس کے زیر اثر ان کی آنکھوں سے آنسو جاری ہوگئے۔ (اعينهم تفيض من الدمع)
ایک صاحب نے کہا کہ حدیث میں آیا ہے کہ مومن ہر حال میں جنت میں جائے گا خواہ وہ زانی ہو یا سارق ہو، کیا یہ حدیث صحیح ہے اگر صحیح ہے تو آپ اس حدیث کی تشریح کس طرح کرتے ہیں۔
میں نے کہا کہ یہ حدیث صحیح ہے۔ مگر آپ جو اس کا مفہوم لے رہے ہیں وہ صحیح نہیں۔ اس حدیث میں دراصل اسی مسئلہ کو بتایا گیا ہے جو قرآن میں لَمَم کے ساتھ بیان ہوا ہے۔ قرآن کی اس آیت میں بتایا گیا ہے کہ اہل نجات وہ ہیں جو کبائر و فواحش سے اجتناب کرتے ہیں سوائے لَمَم کے (النجم ۳۲)
یہاں لمم سے مراد وقتی وقوع ہے۔ یعنی جذبات کے شدید غلبہ کے تحت کبھی اتفاقاً ملوث ہو جانا۔ اور پھر شدید احساس ندامت کے ساتھ اس سے تائب ہونا۔ یہی بات حدیث میں بھی آئی ہے۔ حدیث میں جو لفظ ہے وہ (و إن زنی و إن سرق کا لفظ ہے، نہ کہ یزنی اور یسرق کا لفظ۔ یعنی اس کا مطلب یہ نہیں کہ آدمی استمراری طور پر اس قسم کا فعل کرتا رہے۔ اس کا مطلب صرف یہ ہے کہ اتفاقی طور پر کبھی انسانی کمزوری سے مجبور ہو کر اس سے ایسا فعل سرزد ہو جائے اور پھر وہ شدت کے ساتھ اپنے گناہ کا اعتراف کرے اور یہ پختہ فیصلہ کرے کہ آئندہ وہ کبھی ایسا نہیں کرے گا۔ جہاں تک میں سمجھتا ہوں ، آیت اور حدیث دونوں میں اصلا جس چیز کی اہمیت بتائی گئی ہے وہ سادہ طور پر وقوع گناہ نہیں ہے بلکہ یہ ہے کہ مومن سے اگر کبھی بشری تقاضا کے تحت کوئی گناہ سرزد ہو جائے تو اس کا حال کیا ہونا چاہئے۔ اس کے بعد اس کو گناہ کے احساس سے تڑپ اٹھنا چاہئے۔ اس کا یہ احساس اتنا شدید ہونا چاہئے کہ اس کی
‹ Previous page Next page › Contents of October 2001 All issues