میرٹھ کا سفر
الرسالہ، اکتوبر ۲۰۰۱، صفحہ ۳۷
آنکھوں سے آنسوؤں کا سیلاب جاری ہو جائے، یہاں تک کہ فرشتے کہہ اٹھیں کہ اے رب، اپنے اس بندے کو معاف فرمادے۔ کیوں کہ اس نے اتنے آنسو بہائے ہیں جو اس کے گناہ کو دھونے کے لئے کافی ہوں۔
ایک صاحب نے سوال کیا کہ آخرت کے بارے میں جو نصوص (آیات و احادیث) آئی ہیں وہ بظاہر متعارض ہیں۔ اُن سے آخرت کی تصویر واضح نہیں ہوتی۔ مثلاً بعض روایتوں سے معلوم ہوتا ہے کہ مرتے ہی فوراً انسان اپنے حقیقی انجام سے دوچار ہو جاتا ہے۔ اور بعض سے معلوم ہوتا ہے کہ آخر میں قیامت کے دن حساب و کتاب ہوگا۔ سوال یہ ہے کہ اگر مرتے ہی انسان جنت یا جہنم میں چلا جاتا ہے تو ان آیتوں اور روایتوں کی کیا تاویل کی جائے جن کے مطابق بظاہر تمام انسانوں کے خاتمہ کے بعد ایسا ہونے والا ہے۔
میں نے کہا کہ یہ سارا اشکال اس لئے ہے کہ ہم زمان ومکان کے دنیوی تصور کے تحت آخرت کے معاملہ کو سمجھنا چاہتے ہیں۔ مگر یہ قیاس مع الفارق ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ موت کے بعد فوراً ہی زمان و مکاں کا تصور ختم ہو جاتا ہے۔ اس کے بعد ماضی وحال اور مستقبل کا وہ فرق باقی نہیں رہتا جو موجودہ دنیا میں ہمیں محسوس ہوتا ہے۔ یہ اشکال اس لئے ہے کہ ہم واقعات کو فاصلوں کے اعتبار سے سمجھنے کے عادی ہیں۔ حالاں کہ اللہ تعالیٰ نے موجودہ دنیا میں کچھ ایسی چیزیں رکھ دی ہیں جن کے ذریعہ ہر آدمی یہ تجربہ کرتا ہے کہ فاصلوں کا معاملہ اضافی ہے۔ مثلاً ہر آدمی کا تجربہ ہے کہ بعض اوقات ایسے خواب نظر آتے ہیں جس میں وہ ایک لمحہ میں لمبی مدت کے درمیان ہونے والے واقعات کو دیکھ لیتا ہے۔ یہی معاملہ تصور کا ہے۔ ہر آدمی کا تجربہ ہے کہ ایک لمحہ کے اندر اس کا خیال ہزاروں میل سے بھی زیادہ سفر کر سکتا ہے۔ مثلاً آپ دہلی میں بیٹھے ہوئے اپنے خیال کو ایک سیکنڈ سے بھی کم وقفہ میں نیویارک پہنچ سکتے ہیں۔ یا
‹ Previous page Next page › Contents of October 2001 All issues