میرٹھ کا سفر
الرسالہ، اکتوبر ۲۰۰۱، صفحہ ۳۸
آنکھ بند کرتے ہی ایک لمحہ میں سورج یا چاند کو اپنے تصور میں لا سکتے ہیں۔ یہ بات اب سائنسی مطالعہ کے ذریعہ ثابت ہو چکی ہے کہ زمان و مکاں کے تصورات اضافی ہیں۔ اس نظریہ کو سائنس میں نظریہ اضافیت(relativity) جاتا ہے۔
یہ چیزیں آخرت کے معاملہ کو ہمارے لئے قابلِ فہم بنا رہی ہیں۔ ان کے ذریعہ یہ امکان ثابت ہوتا ہے کہ ایک ایسی دنیا بھی ہو سکتی ہے جہاں زمانی بُعد اور مکانی فاصلے مٹ گئے ہوں۔ حال اور مستقبل کا وہ فرق باقی نہ رہا ہو جو ہم کو موجودہ محدود دنیا میں نظر آتا ہے۔ ایک صاحب نے کہا کہ حدیث میں آیا ہے کہ آدمی جب مر کر قبر میں دفن کیا جاتا ہے تو منکر نکیر اس سے تین سوال کرتے ہیں۔ من ربک، من رسولک، ما دینك۔ انہوں نے کہا کہ اس سے تو معلوم ہوتا ہے کہ قبر کا معاملہ بہت آسان ہے۔ ان سوالات کا جواب تو ہر مسلمان دے سکتا ہے، خواہ وہ کیسا ہی مسلمان ہو۔
میں نے کہا کہ اس کا جواب قرآن میں موجود ہے اور وہ یہ کہ اس سے مراد لفظی جواب نہیں ہے۔ بلکہ حقیقی جواب ہے۔ یعنی سوال کا مطلب یہ ہوگا کہ کیا تم نے اپنی زندگی میں حقیقی طور پر اللہ کو اپنا رب بنایا تھا۔ کیا تم نے حقیقی طور پر رسول کو اپنے لئے اسوہ بنایا تھا۔ کیا تم نے دینِ اسلام کو حقیقی طور پر اپنا دین قرار دیا تھا۔ اس تفسیر کا ثبوت یہ ہے کہ قرآن میں بتایا گیا ہے کہ منافقین رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے اور انہوں نے پر زور الفاظ میں کہا کہ نشھد انک لرسول اللہ۔ مگر اللہ نے ان کے اس قول کو نہیں مانا۔ اور فرمایا کہ اللہ گواہی دیتا ہے کہ یہ منافقین جھوٹے ہیں (المنافقون)۔ اس سے معلوم ہوا کہ مقبول جواب وہ ہے جو حقیقت اور واقعیت پر مبنی ہو۔
قبر میں صرف وہ جواب کسی کے کام آئے گا جو واقعہ سچائی پر مبنی ہوگا۔ یعنی آدمی کی زندگی اسی کے مطابق گزری ہو۔ اس کے برعکس اگر اس کا جواب جھوٹ پر مبنی ہو تو
‹ Previous page Next page › Contents of October 2001 All issues