میرٹھ کا سفر
الرسالہ، اکتوبر ۲۰۰۱، صفحہ ۳۹
وہ ایک ایسی بات کا دعویٰ کر رہا ہے جو اس کی حقیقی زندگی سے مطابقت نہیں رکھتا۔ آخرت میں بھی اس کا جواب اسی طرح رد کر دیا جائے گا جس طرح دنیا میں منافقین کے جواب کو رد کر دیا گیا (المنافقون)۔
الرسالہ کے ایک قاری نے کہا کہ میرا تجربہ ہے کہ موجودہ زمانہ کے مسلمانوں کا دینی شاکلہ صوفیا کے زیر اثر بنا ہے۔ چنانچہ تقریباً تمام عوام و خواص متصوفانہ شاکلہ کے تحت سوچتے ہیں۔ تبلیغی جماعت کی عوامی مقبولیت کا راز یہی ہے کہ اس نے معمولی فرق کے ساتھ اس مانوس متصوفانہ ڈھانچہ کو اختیار کر لیا۔ اس کے برعکس جن جماعتوں یا تحریکوں کا ڈھانچہ متصوفانہ نہ تھا وہ عوام میں زیادہ مقبول نہ ہو سکیں۔ یہ بہت بڑا مسئلہ ہے، اس بارے میں آپ اپنی رائے بتائیں۔
میں نے کہا کہ اس مسئلہ کو سمجھنے کے لئے آپ تعرف الاشیاء باضدادها کے اصول کا انطباق کریں۔ وہ یہ کہ یہ معاملہ جو آپ ہندوستان میں دیکھتے ہیں وہ عرب دنیا میں سرے سے موجود نہیں۔ جب کہ عربوں کو اسلام براہ راست رسول اور اصحاب رسول کے ذریعہ ملا ہے۔ سوال یہ ہے کہ جن لوگوں کی زبان عربی ہے اور جن کو دین براہ راست رسول اور اصحاب رسول سے ملا۔ ان کا نمونہ درست نمونہ ہے یا ان لوگوں کا جن کو دین بالواسطہ ملا۔
میں صوفیا کا یا تصوف کا مخالف نہیں ہوں۔ میں خود اپنے آپ کو ایک صوفی سمجھتا ہوں۔ لیکن اسی کے ساتھ میں یہ کہتا ہوں کہ ہندوستان میں جو دینی شاکلہ بنا وہ خدا پرستی سے زیادہ بزرگ پرستی سے قریب تھا۔
میرا احساس یہ ہے کہ ہندوستان میں جو لوگ مسلمان ہوئے ان کی تعلیم و تربیت نہ ہونے کی وجہ سے یہاں دین کا وہ ڈھانچہ بن گیا جس کو میں بزرگ پرستی کہتا ہوں۔ ہند و قوم ایک ایسی قوم تھی جس کا پورا مذہب گرو کے تصور پر قائم تھا۔ گرو سے
‹ Previous page Next page › Contents of October 2001 All issues