میرٹھ کا سفر
الرسالہ، اکتوبر ۲۰۰۱، صفحہ ۴۰
گیان لینا، گرو سے آشیرواد لینا، گرو کے واسطہ سے نجات حاصل کرنا یہاں تک کہ یہ سمجھنا کہ گرو اور بھگوان میں کوئی فرق نہیں۔ اس قسم کے ذہن کے لوگ بہت بڑی تعداد میں اسلام میں اس طرح داخل ہوئے کہ اس کے بعد ان کی تعلیم و تربیت کا کوئی انتظام نہ ہو سکا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ وہ مسلمان تو ہو گئے مگر ان کے مزاج پر بدستور ہندو روایت کا غلبہ قائم رہا۔ یہی وہ چیز ہے جس نے ہندوستان میں بزرگ پرستی اور اکابر پرستی پر مبنی اس مذہب کی صورت اختیار کر لی جو آج مسلمانوں میں دکھائی دیتی ہے۔
اس ہندوستانی اسلام کا سب سے بڑا نقصان یہ ہے کہ مومن کا جو تعلق اللہ سے ہونا چاہئے وہ تعلق مفروضہ بزرگوں سے قائم ہو جاتا ہے۔ لوگ یہ یقین کر لیتے ہیں کہ دین وہ ہے جو ان کے بزرگوں سے ملے۔ ان کو اس دنیا میں جو کچھ ملتا ہے وہ سب انہیں بزرگوں کی برکت سے ملتا ہے۔ حتی کہ جنت بھی ان کو انہیں بزرگوں کے طفیل سے ملے گی۔ ان کا خیال یہ ہو جاتا ہے کہ ان بزرگوں کا چہرہ دیکھنا اور ان کے پاس بیٹھنا، ان کی خدمت کرنا، ان کی برکت حاصل کرنا، ان کے ملفوظات سننا، بس انہی چیزوں کا نام دین ہے۔ مگر یقینی ہے کہ یہ ایک خود ساختہ مذہب ہے۔ اس کا قرآن وحدیث والے مذہب سے کوئی تعلق نہیں۔ قرآن وسنت کے مطابق، حقیقی اسلام وہ ہے جو اللہ کی معرفت پر قائم ہو۔ جس میں محبت اور خوف کے جذبات صرف ایک اللہ سے وابستہ ہو گئے ہوں۔ جو آدمی کو اللہ کی عظمت و جلال کی یاد میں جینے والا بنا دے۔ جس میں انسان اللہ کی طرف بھاگے اور یہ یقین رکھے کہ جو کچھ اسے ملے گا اللہ سے ملے گا۔ کسی انسان سے اس کو کچھ بھی ملنے والا نہیں۔ جناب ڈاکٹر ذوالفقار صاحب سیفی نے کہا کہ شب برات کے موقع پر ہمارے یہاں کچھ اشتہار لگتے ہیں۔ بعض میں شب برات کی فضیلت کو ثابت کیا جاتا ہے اور بعض پرچوں میں اس کی تردید کی جاتی ہے۔ مسلمان کش مکش میں پڑ جاتا ہے۔ اس سلسلے میں یہ بتائیں کہ اصل حقیقت کیا ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of October 2001 All issues