میرٹھ کا سفر
الرسالہ، اکتوبر ۲۰۰۱، صفحہ ۴۱
میں نے کہا کہ یہ کشمکش کی بات نہیں ہے بلکہ دین کے معاملہ میں سنجیدہ نہ ہونے کی بات ہے۔ کوئی مسلمان ایسا نہیں جو اپنے بیٹے اور بیٹی کی ترقی کے لئے ایک رات کی دھوم پر یقین کرلے یا کچھ وقتی رسوم ادا کرکے یہ سمجھے کہ اس کے تمام معاشی معاملات درست ہو جائیں گے۔ لوگ چونکہ اپنے ذاتی معاملات میں سنجیدہ ہیں اس لئے وہ ایسے معاملہ میں، ٹوٹنا اور ٹوٹکہ جیسی چیزوں پر یقین نہیں کرتے مگر دینی معاملات میں وہ سنجیدہ نہیں اس لئے ان کو یہ آسان نظر آتا ہے کہ سال میں ایک رات کی دھوم مچاؤ اور جنت میں چلے جاؤ۔
مزید میں نے کہا کہ اس قسم کی دھوم والا اسلام براہ راست طور پر ہندور وایات سے اخذ کیا گیا ہے۔ ہندوؤں کے یہاں خشوع اور تقویٰ والے دین کا کوئی تصور نہیں۔ ان کے نزدیک خدا کوئی علیحدہ ہستی نہیں جس کے ساتھ اپنی تو جہات کو وابستہ کیا جائے۔ وہ نمائش رسوم، جلوس، کیرتن، نوراتری اور جاگرن، جیسی دھوم والی چیزوں کو مذہب سمجھتے ہیں۔ یہ کہنا شاید مبالغہ نہ ہو کہ ہندوستان کے مسلمان، ہندو مذہب کو اسلامائز نہ کرسکے۔ البتہ ہندو مہذب نے یہاں کے اسلام کو ہندوائز کر لیا۔ اسلام سے پہلے عرب کے لوگوں میں جو مذہب تھا وہ تالی بجانا اور سیٹی بجانا، اور گانے، باجے جیسی چیزوں پر مشتمل تھا۔ اسلام نے، اس نمائش مذہب کو سنجیدہ مذہب میں تبدیل کر دیا۔ ہندوستان میں اس کے برعکس یہ ہوا کہ خدا کے دیئے ہوئے سنجیدہ مذہب کو یہاں کے لوگوں نے دوبارہ نمائش اور دھوم اور شعر خوانی کے مذہب میں تبدیل کر دیا۔ الرسالہ کے ایک قاری نے کہا کہ آپ نے جو یہ عالمی دعوتی مشن چلایا ہے اور اس میں اپنی پوری زندگی وقف کر دی۔ اس کے لئے لازمی تھا کہ آپ معاشی اعتبار سے فارغ ہوں۔ تو آپ نے اپنے معاشی مسائل کو کیسے حل کیا۔
میں نے کہا کہ ابتداء عمر سے ہی میرے اندر دینی خدمات کا جذبہ تھا۔ میں جب
‹ Previous page Next page › Contents of October 2001 All issues