Al-Risala · October 2001 · page 42

میرٹھ کا سفر

الرسالہ، اکتوبر ۲۰۰۱، صفحہ ۴۲

بھی خدا سے دعا کرتا تھا تو ہمیشہ میری زبان سے یہی دعا نکلتی تھی کہ خدایا، تو مجھے اپنے دین کی خدمت کی توفیق دے۔ تا ہم یہ سوال میرے ذہن میں باقی رہتا تھا کہ جب میں اپنا پورا وقت اور اپنی پوری طاقت دین کی خدمت میں لگا رہا ہوں تو میری معاشی ضروریات کیسے پوری ہوں گی۔ اس کا جواب مجھے قرآن اور حدیث میں ملا۔ قرآن و حدیث کے گہرے مطالعہ سے ، میں نے سمجھا کہ دعوت کا عمل بندے کی ذمہ داری ہے۔ اور رزق کی فراہمی اللہ کی ذمہ داری۔ آخری بار جس چیز نے مجھے اس معاملہ میں یکسو کر دیا وہ ابن ماجہ اور البیہقی کی یہ روایت تھی:

من جعل الهموم هماً واحدا هم آخرته كفاه الله عن هموم الدنيا (مشکوة المصابیح ا/ ۸۷) جس شخص نے اپنے سارے غموں کو ایک غم بنا لیا، آخرت کا غم، تو اللہ اس کی دنیا کے غموں کے لئے کافی ہو جائے گا۔ اللہ کی توفیق سے میں نے اس حدیث کو پورے اعتماد کے ساتھ پکڑ لیا۔ حقیقت یہ ہے کہ میری پوری زندگی اس حدیث کی عملی تفسیر ہے۔ اگر میں یہ کہوں تو غلط نہ ہوگا کہ اللہ نے میرے ساتھ وہ معاملہ فرمایا جو قرآن میں ان الفاظ میں بیان ہوا ہے: و وجدک عائلا فاغنی (الضحی)

میری پوری زندگی گویا و من يتوکل علی الله فهو حسبہ کا تجربہ ہے۔ میں اکثر اپنے گھر میں اپنے بیوی بچوں سے کہتا ہوں کہ ہمارے پاس جو کچھ ہے وہ براہ راست اور بلا واسطہ اللہ کا عطیہ ہے، خواہ وہ کوئی چھوٹی چیز ہو یا کوئی بڑی چیز۔ اس تجربہ کا مجھے سب سے بڑا فائدہ یہ ہوا کہ میں ہر لمحہ محسوس کرتا ہوں کہ میں اللہ کے دئے ہوئے سے پارہا ہوں نہ کہ اپنی محنت کی کمائی سے۔ جناب محمد عارف صاحب میرٹھ (شاستری نگر) فیضل مسجد کے امام ہیں۔ میرے سفر سے پہلے میرٹھ کے ایک صاحب نے ان کو ماہنامہ الرسالہ پڑھنے کے لئے دیا۔ اس

‹ Previous page Next page › Contents of October 2001 All issues

Printed page