میرٹھ کا سفر
الرسالہ، اکتوبر ۲۰۰۱، صفحہ ۴۳
وقت وہ الرسالہ سے اس قدر بد ظن تھے کہ انہوں نے اس کو واپس کر دیا اور کہا کہ مجھے الرسالہ پڑھنا نہیں ہے۔ پھر میرٹھ کے لئے جب میرا پروگرام بنا تو الرسالہ کے بعض قارئین نے ان کو اس کی اطلاع دی اور انہیں اجتماع میں شرکت کی دعوت دی۔ اس دعوت کو انہوں نے قبول کر لیا اور اجتماع میں آکر میری تقریر سنی اور ہماری مجلس میں بیٹھے۔ اس کے بعد ان کی طرف سے مجھے ایک خط موصول ہوا اس کو یہاں نقل کیا جاتا ہے: ملاقات سے پہلے میں آپ کے خلاف نہایت بد ظنی کا شکار تھا۔ لیکن حضرت والا کی ملاقات کے بعد فوراً ہی ذہن اور قلب متاثر ہو اور وجہ اس کی یہ ہوئی کہ حضرت والا کی تقریر اور ملاقات کا انداز بالکل ہمارے آقا ﷺ کے طریقہ پر تھا۔ حقیقت میں اس بات کو قسم کھا کر کہا جا سکتا ہے کہ حضرت والا کا نظریہ بالکل قرآن اور حدیث کے مطابق ہے۔ کھانے پینے میں چلنے پھرنے میں اور گفتگو کرنے میں اور ملاقات کرنے میں وہ طریقہ نہیں تھا جیسا کہ آج کے علماء کے اندر بناوٹ اور اکثر فوں پائی جاتی ہے بلکہ آپ کو دیکھ کر اور ملاقات کر کے آقا صلی اللہ علیہ وسلم کی یاد تازہ ہو جاتی ہے۔ جیسا کہ ہمارے آقا کا طریقہ تھا۔ جو چاہتا سوال کرتا تو اس کا ضرور جواب دیا جاتا۔ اور اگر کوئی جہالت کا سوال کرتا تو اس کا بھی جواب دیا جاتا اور اگر وہ اپنی جہالت پر اڑا رہتا تو اس سے اعراض فرمایا جاتا۔ آپ کی گفتار آپ کی زندگی کا ایک ایک لمحہ قرآن و حدیث کے عین مطابق پایا جاتا ہے۔ اللہ ہمارے سر پر حضرت کا سایہ تادیر قائم رکھے، آمین۔ (محمد عارف) میرٹھ میں ایک صاحب ہیں جن کا نام ابرار صدیقی ہے۔ کسب معاش کے اعتبار سے وہ رکشہ چلاتے ہیں۔ ان کا طریقہ یہ ہے کہ وہ اپنے ساتھ الرسالہ کے شمارے رکھتے ہیں اور جب بھی اور جہاں بھی وقت ملتا ہے وہ الرسالہ کا مطالعہ شروع کر دیتے ہیں۔ ایک صاحب نے ان کا تاثر بتاتے ہوئے کہا کہ وہ الرسالہ کے عاشق ہیں۔ رکشہ ان کے لئے کسب معاش کا ذریعہ ہے اور الرسالہ ان کے لئے روحانی زندگی کا ذریعہ۔ مزید یہ کہ
‹ Previous page Next page › Contents of October 2001 All issues